شام نے یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا۔
شامی سرکاری خبر رساں ادارے ’سانا‘ کے مطابق ایک شامی سفارتی ذریعے نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ موجودہ حالات میں شام کی جانب سے یمن میں فوجی دستے بھیجنے کی اطلاعات کی کوئی حقیقت نہیں۔
سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ شام کی موجودہ ترجیحات میں داخلی سلامتی کا استحکام، تعمیر نو اور معاشی بحالی شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کا دائرہ فی الحال تربیت، عسکری صلاحیتوں میں اضافے اور فوجی تجربات کے تبادلے تک محدود ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام آئندہ ماہ شام کے دورے شروع کریں گے جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے۔ مستقبل میں یہ تعاون باہمی دفاعی معاہدے یا مکہ دفاعی اتحاد میں شام کی شمولیت کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متعدد یمنی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوجی اہلکار پہلے ہی یمن اور سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ان اطلاعات اور شامی حکومت کی تردید کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ شامی فوجی اہلکاروں کی ایک محدود تعداد سعودی عرب میں عسکری مشاورت اور تربیت کے لیے بھیجی گئی ہے۔ رپورٹ میں دو شامی فوجی ذرائع اور ایک سینئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ شام اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت تربیت، مشاورت اور عسکری تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

