وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے پائیدار حل تلاش کر رہی ہے اور کراچی میں ڈیسیلینشن پلانٹ کے قیام کے لیے پرتگال کا سندھ حکومت سے اتفاق ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں کراچی واٹرکارپوریشن اور پرتگالی کمپنیوں کے درمیان روابط قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کی پرتگال کے سفیر سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور پرتگالی کمپنیوں اور آسیان ممالک کو سندھ میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ سندھ میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے انھوں نے چین کا بھی دورہ کیا تھا جبکہ صدرآصف علی زرداری نے بھی چین کے دورے میں وہاں کے متعلقہ اداروں سے سندھ میں سرمایہ کاری کے لیے ملاقاتیں کی تھیں اور صدر مملکت سندھ کی ترقی اور مسائل کے لیے ذاتی طور پر دلچسپی بھی لے رہے ہیں، جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔
چند روز قبل ہی وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں بجلی و پانی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیا تھا اورکہا تھا کہ کراچی کے مسائل پر قابو پانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے واٹر کارپوریشن اورکے الیکٹرک کو اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ مراد علی شاہ تیسری بار سندھ کے وزیر اعلی بنائے گئے تھے اور سندھ میں اپنی حکمرانی کے دس برس میں انھوں نے کراچی میں پانی کی قلت اور بجلی کی عدم فراہمی کے لیے متعدد بار نوٹس لیے مگر مسائل ابھی تک موجود ہیں۔ کے الیکٹرک تو من مانی کرنے میں آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو نیپرا کے کسی حد تک ضرور ماتحت ہے۔ کراچی میں لوڈشیڈنگ ہوتی رہتیاور بجلی کی عدم فراہمی جاری ہے۔
کراچی واٹر کارپوریشن سندھ حکومت کا ماتحت ادارہ ہے جو محکمہ بلدیات کے احکامات ماننے کا پابند ہے اور اب اس کا چیئرمین بھی کراچی کا پیپلز پارٹی کا پہلا میئر ہے جبکہ ماضی میں کراچی کے بے اختیار میٔروں کا ’’کے ڈبلیو ایس پی‘‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اب سندھ حکومت میں کراچی واٹرکارپوریشن بنا دیا گیا تھا ۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ضلعی حکومت سے قبل سندھ حکومت کے ماتحت خود مختار ادارہ تھا جس کو بعد میں دونوں سٹی ناظمین نے کنٹرول کیا اور واٹر بورڈ ناظمین کے ماتحت ہونے کے ساتھ متعلقہ ٹاؤنز اور یوسیز کے ناظمین کو بھی اہمیت دیتا رہا تھا تو کراچی میں فراہمی و نکاسی آب کے وہ مسائل بھی نہیں تھے جو کراچی والوں کو 15 سالوں سے درپیش ہیں اور کے ڈبلیو ایس بی میں افسران کا تقرر و تبادلے اور تعمیری کام سندھ کے محکمہ بلدیات اور پی پی رہنماؤں کے ذریعے ہوتے ہیں اور کراچی کے موجودہ ٹاؤنز کے چیئرمین غیر فعال ہیں، البتہ پی پی کے ٹاؤن چیئرمینوں کی واٹرکارپوریشن میں پی پی حکومت کے باعث ضرور شنوائی ہوجاتی ہے۔
کراچی واٹر کارپوریشن بننے کے بعد میئرکراچی نے اس کی آمدنی بڑھنے کا جو دعویٰ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میئرکراچی وزیراعلیٰ اور پی پی کے چیئرمین کا قابل اعتماد اور چیئرمین کی حیثیت سے اختیارات کا حامل ہے۔ کراچی میں پانی کی عدم فراہمی پر شہر میں بیشک احتجاج ہوتے رہیں مگر پانی من پسندوں کو ملے گا، مگر پانی کے بل ہر سال دس فیصد بڑھتے رہیں گے۔ شہریوں کو فراہمی و نکاسی آب کی ذمے داری واٹر کارپوریشن کی ہے مگر بہت سے مسائل سامنے آ رہے ہیں لہذا سندھ حکومت کو بار بار نوٹس لینے اور دعوے کرنا پڑتے ہیں۔
کراچی کے شہری حکمرانوں کے دعوے سن سن کر ان پر یقین کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ ریڈ لائن، گرین لائن اور یلو لائن منصوبوں پر پانچ سال سے کام چل رہے ہیں اور یونیورسٹی روڈ ان کی زد میں ہے جو مکمل ہونے ہی میں نہیں آرہا اور صرف حکومتی دعوے ضرور مسلسل سننے میں آرہے ہیں جس کی وجہ سے پانچ سال سے یونیورسٹی روڈ پر سفر عذاب بنا ہوا ہے۔ یونیورسٹی روڈ، حسن اسکوائر ، جیل چورنگی پر پہلے کام شروع ہوا تھا جس کے بعد حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک تعمیری کام بغیر متبادل راستہ دیے شروع کرا دیاگیا اور اب اس مصروف سڑک کا ایک ٹریک مکمل بند ہے۔
حسن اسکوائر سے جیل چورنگی کی سڑک ضرور بہتر ہوئی ہے اور جیل چورنگی سے مزار قائد چورنگی پر بھی کام چل رہا ہے جبکہ نیپا چورنگی سے صفورا تک بھی سڑک برسوں سے زیر تعمیر ہے۔ صفورا تا مزار قائد چورنگی کی طویل سڑک پانچ سال سے زیر تعمیر ہے اور اطراف کے لوگ سخت پریشان ہیں مگر نہ پورے ہونے والے حکومتی دعوے مسلسل جاری ہیں۔ حکومتی دعوؤں کے آسرے پر پانچ سال گزرچکے ہیں مگر کام مکمل نہیں ہورہا اور تاخیر پر تاخیر کیوں ہورہی ہے؟ اس کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں جو سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے دور نہیں کرا رہے، صرف نہ پورے ہونے والے دعوے ضرور ہورہے ہیں ۔

