تحریر: عرفان احمد خان
ہمارے بچپن میں لاہور ایک بہت ہی پر امن شہر تھا ۔ بادشاہی مسجد ، انار کلی ، پنجاب سیکٹریریٹ اور بااثر انگریزوں سے موسوم سڑکیں ڈیوس روڈ ،ایمپرس روڈ، میکلوڈ روڈ ارجرٹن روڈ ، بیڈن روڈ لاہور کی پہچان ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن اسلامی حکومتوں اور ملاؤں نے مل کر اس پر پاسباں شہر کو شہر رسوائی میں بدل کر رکھ دیا ہے ۔
دس روز قبل لاہور سے ذرا آگے مرید کے میں لب سڑک جی ٹی روڈ پر جو واقعہ پیش آیا اس کو حکومت پنجاب حق وباطل کا معرکہ بنا کر پیش کر رہی ہے ۔ دس روز سے پنجاب اور مرکزی حکومت کے ترجمان روزانہ ہی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے ان کی اپنی کاکردگی پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں ۔ اس میں بلا شبہ کوئی شک نہی کہ تحرک لبیک ایک انتہا پسندانہ رویہ رکھنے والی جماعت ہے بلکہ بدمعاشوں کا ایسا ٹولہ ہے جس نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔ ان کی حرکات و سکنات اور طرز عمل کی کسی بھی دین میں گنجائش نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ طرز عمل ایک دن کی پیداوار تو نہیں ۔ 2016 میں جب اس جماعت کا بیج بویا جا رہا تھا اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور آج جبکہ یہ تناور درخت بن چکی ہے تب بھی پنجاب میں مسلم لیگ ہی برسر اقتدار ہے ۔ دس سال مسلم لیگ ہی اس کو کھاد مہیا کرنے پانی دینے کی ذمہ داری نبھاتی رہی ہے ۔ پرویز الٰہی کی باغبانی میں چوبرجی میں وہ عظیم الشان سنگ مرمر کی مسجد تعمیر ہوئی جس کو فتنہ الخوارج میں شامل کر کے سیل کر دیا گیا ہے ۔ کوئی ایک زیادتی ،دکھ ہو تو بیان کروں ۔ مساجد ،مارکیٹوں بار کونسلوں سکولوں میں شہریوں کا داخلہ ممنوع ۔ پنجاب حکومت اس ظلم زیادتی پر خاموش رہی ۔ کئی مقامات پر تو اس زیادتی کا حصہ بن کر تحریک لبیک کی ہمت بندھواتی رہی ۔ اب روز ایک پریس کانفرنس کر کے ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو للکارا جا رہا ہے ۔ جب اپنے شہریوں پر بندوقیں تانی جا رہی تھیں ۔ جب ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی تھی اس وقت پنجاب حکومت کے ترجمان کے دل میں ہمدردی کا شاہئبہ تک پیدا نہ ہوا ۔
اب یہ آگ اپنے گھر تک آن پہنچی ہے تو تحریک لبیک کے 95 بنک اکاؤنٹ 223 غیر رجسٹرڈ مدارس بھی آنکھوں میں کھٹکنے لگے ۔ چھ مدارس کا حکومتی زمین پر بنایا جانا پنجاب حکومت کی کارکردگی پر ایک سوال ہے بلکہ آہینہ رخ یار ہے ۔ اب جبکہ وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر پنجاب حکومت نے بعض ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جس سے پر تشدد اور پر خوف ماحول کے بدلنے کی ایک امید پیدا ہوئی ہے ہم پنجاب حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے ان دو اقدام پر سختی سے قائم رہے گی
۱- انتہاء پسند جماعتوں کے اشتہارات ،تصاویر اور پلے کارڈ کی نمائش پر پابندی رہے گی اور خلاف ورزی پر بڑی کاروائی کا فیصلہ کیا جاۓ گا ۔
۲ ۔ غیر قانونی اجتماعات یا بازار بند کرانے والوں پر دہشت گردی قوانین لاگو ہوں گے ۔ ( ہمارا مطالبہ ہے کہ شہریوں کے مارکیٹوں ،دوکانوں میں داخلہ پر پابندی کے بورڈ آویزاں کرنے والوں پر بھی دہشت گردی کا قانون لاگو ہونا چائیے ۔ )
لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ تحریک لبیک کے خلاف لئے جانے والے ایکشن کے دوران مسلم لیگ کی پنجاب اور مرکزی
حکومت دوسری مذہبی تنظیموں کی دل آزاری کے خوف میں مبتلا ہے ۔ جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان مذہبی تنظیموں کا تحریک لبیک کی مذمت نہ کرنا اندر سے تحریک لبیک سے ہمدردی جتانے کے مترادف ہے ۔ پنجاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ اندر سے یہ سب ایک ہیں
حکومت کا دل آزاری کا خوف حکومت کے ارادوں میں کھوٹ شامل کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ حکومت کے خفیہ رکھنے کے باوجود ایسے اشارے مل رہے ہیں جس میں حکومت کی کمزوری ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی جا کر
مفتی منیب الرحمان کے مکان پر علما سے ملاقات کر کے ان کو یقین دھانیاں کروانے کے کیا معنی ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ کیا مفتی منیب الرحمان نے مریدکے میں ہونے والے ایکشن پر تحریک لبیک کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اسلام آباد میں وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے علماء و مشائخ کانفرنس کے نام پر پاکستان بھر سے مولویوں کو بلا کر ان کو یقین دھانیاں کروانا
اور اس کانفرنس کو عوام سے خفیہ رکھنا حکومت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے ۔ سیلاب زدگان اب بھی امداد کو ترس رہے ہیں اور حکومت کروڑوں روپے علماء کی خوشامد پر خرچ کر رہی ہے ۔ یہ اسی خوش آمد کا نتیجہ ہے کہ سنیر سیاست دان وزیر دفاع خواجہ آصف کی اس یقین دھانی کے باوجود کہ (اب ملک قانون اور آئین کے مطابق چلے گا ۔مذہب کے نام پر جتھے ریاست کو قبول نہیں ) ۲۱ اکتوبر کو بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور میں ہونے والا سیمینار منسوخ کرنا پڑا ہے ۔ ایک پریس ریلیز کے مطابق بیکن ہاؤس کے ایڈیٹوریم میں ادارہ کی انتظامیہ نے ایک مکالمہ رکھا تھا جس کا عنوان تھا
A History of Ahmadi Oppression
یہ تقریب انگریزی زبان میں تھی اس کے باوجود عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ُ( جن کا انگریزی زبان سے کوئی سروکار نہیں ) کے علماء وفد کی صورت میں یونیورسٹی انتظامیہ سے ملے اور ان کو دھمکی دے کر مجبور کیا کہ وہ اس موضوع پر مجلس مذاکرہ منعقد نہ کریں ۔ چنانچہ بد امنی سے بچنے کےلئے انتظامیہ نے یہ تقریب منسوخ کر دی ۔ منسوخی پر بغلیں بجانے کی جو خبر روزنامہ امت کراچی نے شائع کی ہے ان میں ان تمام علماء کی فہرست بھی شامل ہے جو نہ صرف خود جھوٹ بولتے بلکہ سچ کی راہ میں روڑے اٹکانے کو
خدمت اسلام تصور کرتے ہیں ۔ پنجاب حکومت کو اس طرز فکر کی طرف بھی توجہ کرنی چائیے جس نے دوسروں کے لئے وطن کی زمین تنگ کر دی ہے ۔ بلکہ ہر وہ انتہاء پسند تنظیم جو مذہب کی آڑ لے کر کسی بھی پاکستانی پر اپنے وطن کی زمین تنگ کرتی ہے اس تنظیم پر پابندی لگنی چائیے ۔

