انڈیا: ’چوہوں کے 200 کلو چرس کھانے‘ پر عدالت نے ملزم رہا کر دیا

391183 648247291


انڈیا کے مشرقی حصے کی ایک عدالت نے منشیات سمگلنگ کے مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کرتے ہوئے پولیس کو ناکافی شواہد پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ چوہوں نے تحویل میں رکھی ہوئی تقریباً 200 کلو گرام چرس (جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ انڈین روپے یا 82 ہزار پاؤنڈ ہے) کھا لی۔

یہ مقدمہ 2022 کا ہے، جب جھارکھنڈ ریاست کی پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کو روک کر اس میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم دوران سماعت افسران نے عدالت کو بتایا کہ وہ منشیات کو بطور ثبوت پیش نہیں کر سکتے کیونکہ مبینہ طور پر وہ گودام میں چوہوں نے خراب کر دی۔

جج نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مؤقف ’ضبطی اور کیس کے پورے طریقۂ کار پر شبہات پیدا کرتا ہے۔‘

عدالت نے پولیس گواہوں کے بیانات میں متعدد تضادات دریافت کیے، خاص طور پر مقام اور وقت گرفتاری، کس نے ملزم کو پکڑا اور دوسرے مبینہ ساتھی کیسے فرار ہوئے۔ یہ تمام نکات مقامی میڈیا رپورٹس میں بھی سامنے آئے۔

عدالت نے نوٹ کیا ’ان کے بیانات میں کئی تضادات ہیں… جو اس بات پر شک پیدا کرتے ہیں کہ آیا ملزم کو واقعی اسی جگہ سے پکڑا گیا جس کا دعویٰ استغاثہ کر رہا ہے یا کہیں اور سے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ کوئی بھی آزاد شہری گواہ پیش نہیں کیا گیا، حالانکہ مبینہ گرفتاری ایک مصروف شاہراہ اور رہائشی علاقے کے قریب ہوئی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

استغاثہ یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ ملزم کا اس گاڑی سے کوئی تعلق تھا جس میں مبینہ طور پر منشیات برآمد ہوئی۔

فیصلے میں کہا گیا ’گاڑی کا کوئی بھی کاغذ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو ثابت کرے کہ اس گاڑی کا کسی بھی طرح سے ملزم سے تعلق تھا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ الزامات کو ’شک سے بالاتر‘ ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ’جب کوئی مادی ثبوت باقی نہ ہو اور تحویل کی زنجیر مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہو، تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا ضروری ہے۔‘

جولائی میں بھی جھارکھنڈ کے ضلع دھنباد میں حکام نے ایک ایسا ہی دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کی گئی شراب کو چوہوں نے نقصان پہنچایا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ