زیادہ تر جرمن ٹرمپ کی پالیسیوں کو نیٹو کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں

IMG 20260117 WA2185


ایک نئے رائے عامہ کے سروے کے مطابق جرمنی کی اکثریت کا خیال ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نیٹو اتحاد کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ سروے جرمنی میں نیٹو پر ٹرمپ کی تنقید کے بارے میں وسیع تشویش کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر یورپی اتحادیوں سے دفاعی اخراجات بڑھانے کے ان کے بار بار مطالبات اور آرٹیکل 5 کے تحت اتحاد کی اجتماعی دفاعی وابستگی پر سوالات اٹھانے کے حوالے سے۔ بہت سے جواب دہندگان نے کہا کہ اس طرح کی بات چیت بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کی شراکت داری میں اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور نیٹو کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔
جرمنی، جو نیٹو کا ایک اہم رکن اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والا ملک ہے، روایتی طور پر اس اتحاد کو یورپی سیکیورٹی کا مرکز سمجھتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی بے چینی اس خوف کی عکاسی کرتی ہے کہ یکطرفہ یا لین دین پر مبنی امریکی خارجہ پالیسی کی واپسی ایسے وقت میں نیٹو کو غیر مستحکم کر سکتی ہے جب عالمی سیکیورٹی کے چیلنجز، بشمول یوکرین میں جنگ اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، عروج پر ہیں۔
برلن میں سیاسی مبصرین نوٹ کرتے ہیں کہ نیٹو کے بارے میں تشویشات جرمنی کی دفاعی اخراجات اور اسٹریٹجک خودمختاری پر گھریلو بحث کو بھی متاثر کر رہی ہیں، واشنگٹن کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھتے ہوئے یورپ کو اپنی سیکیورٹی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
یہ سروے جرمنوں میں ٹرمپ کے قیادت کے انداز اور طویل مدتی بین الاقوامی اتحادوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں وسیع تر شکوک و شبہات کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں۔

متعلقہ پوسٹ