لاہور/شیخوپورہ (12 فروری 2026) — بھارتی شہری سربجیت کور، جو اسلام قبول کرنے کے بعد نور فاطمہ کے نام سے مشہور ہوئیں، اپنے پاکستانی شوہر ناصر حسین کے گھر شیخوپورہ پہنچ گئی ہیں۔ متروکہ وقف املاک کے حکام نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی تھی، جس کے بعد گزشتہ رات لاہور کے دارالامان (ویمن شیلٹر ہوم) سے رہا کر دیا گیا۔
نور فاطمہ تقریباً تین ماہ قبل (4 نومبر 2025) سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں، جو بابا گرو نانک دیو کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ ان کا ویزہ 13 نومبر تک کارآمد تھا، لیکن وہ واپس بھارت نہیں گئیں۔ پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا اور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے پسند کی شادی کر لی۔ شادی کے بعد ان کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔
سربجیت کور اور ناصر حسین کے درمیان 2016 سے سوشل میڈیا پر رابطہ تھا۔ ویزہ ختم ہونے کے بعد اور واپسی سے انکار پر حکام نے انہیں دارالامان بھیج دیا تھا، جہاں وہ تحفظاتی طور پر رکھی گئی تھیں۔ ان کے وکیل احمد حسن پاشا کے مطابق، خاتون کی مرضی اور قانونی دستاویزات (نکاح نامہ) کی بنیاد پر ڈی پورٹیشن کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے آزاد ہیں۔
ناصر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیوی سے شادی کرکے بہت خوش ہیں اور اب دونوں مل کر خوشحال زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ کیس پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی اور مذہبی حساسیتوں کے باوجود ایک مثبت پیش رفت ہے، جہاں خاتون نے اپنی مرضی سے پاکستان میں قیام کا فیصلہ کیا۔

