طالبان حکومت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا عسکری جواب دے گی، جبکہ اسلام آباد پر افغان شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عرب میڈیا ادارے العربیہ انگلش کو بتایا کہ “قدرتی طور پر یہ عسکری جواب ہوگا، تاہم اس کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔ پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔”
یاد رہے کہ پاکستان نے اتوار کی شب افغانستان کے سرحدی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں فضائی حملے کیے تھے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ان عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کی گئیں جو پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
طالبان کے مطابق ننگرہار میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، جبکہ پکتیکا میں بچوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایک بچہ زخمی اور متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ “وہاں کوئی مسلح افراد موجود نہیں تھے، صرف عام شہری متاثر ہوئے۔”
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائیوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کر رہے تھے۔ تاہم کابل حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب بھی پاکستان میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بغیر ثبوت افغانستان پر الزام عائد کر دیا جاتا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں اور یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ “ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر موجود ہے، انہیں افغان زمین کی ضرورت نہیں۔ پاکستان نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔”
طالبان ترجمان نے خطے اور مسلم اکثریتی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسلام آباد کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر آمادہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

