نئی دہلی/اسلام آباد (25 مارچ 2026) — پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، جس کے بعد بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راہول گاندھی نے کہا:
"نریندر مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کا مذاق بنا دیا ہے۔ یہ دراصل مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی ہے اور آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں — یہ ایک عالمی مذاق بن چکی ہے۔ ہر کوئی اسے عالمی مذاق سمجھتا ہے۔ مودی صرف امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر چلیں گے۔”
بھارتی خبر رساں اداروں نے بھی اس پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ "خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہو گیا ہے” اور "بھارتی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے”۔
پاکستان کی اس سفارتی پیشکش نے مودی کی طویل عرصے سے چلائی جانے والی "پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے” کی پالیسی کو بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے متعلقہ فریقین کے ساتھ مضبوط روابط اور مسلم دنیا میں اس کی قابلِ اعتبار حیثیت نے اسے خطے میں امن کی کوششوں کا اہم کھلاڑی بنا دیا ہے، جبکہ بھارت اس عمل سے سائیڈ لائن ہو گیا ہے۔
کانگریس لیڈرز نے اسے "بھارت کے لیے شدید سیٹ بیک” قرار دیا ہے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "مودی کی خارجہ پالیسی اب ذاتی اور متاثرہ نظر آ رہی ہے، جو قومی مفاد کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کی مرضی پر منحصر ہے۔”
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان نے نہ صرف امریکہ کا پیغام ایران تک پہنچایا بلکہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی بھی پیشکش کی ہے۔

