ایران نہ مانا تو تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہو گا، ترجمان وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس.webp


ایران نہ مانا تو تاریخ کا سب سے بڑا حملہ ہو گا، ترجمان وائٹ ہاؤس

ایران غلط اندازے لگانا بند کرے، بصورت دیگر صدر ٹرمپ مزید سخت کارروائی سے گریز نہیں کریں گے، کیرولین لیوٹ

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے حقیقت تسلیم نہ کی تو امریکا ایک بڑا اور فیصلہ کن حملہ کر سکتا ہے۔

ترجمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ایران کی قیادت میں ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جو امریکا کے خلاف دشمنی نہ رکھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایران کے 140 سے زائد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی بحریہ کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق سوالات پر ترجمان نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے معلومات حساس ہیں اور فی الحال شیئر نہیں کی جا سکتیں، جبکہ مذاکرات کی ناکامی سے متعلق سوال کو “مفروضہ” قرار دے کر جواب دینے سے گریز کیا۔

لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر امریکی مؤقف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا جواب صرف صدر ٹرمپ ہی دے سکتے ہیں۔

کارولین لیوٹ نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان اہم ملاقات 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں متوقع ہے، جہاں عالمی صورتحال، توانائی اور سیکیورٹی معاملات زیر بحث آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور امید ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو جائیں گی۔

داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ میں ڈیموکریٹس رکاوٹ ڈال رہے ہیں، جبکہ “سیف امریکا ایکٹ” کی منظوری کے لیے ریپبلکن پارٹی متحد ہے۔

ترجمان نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ مزید غلط اندازے لگانا بند کرے، بصورت دیگر صدر ٹرمپ مزید سخت کارروائی سے گریز نہیں کریں گے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ