واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کابینہ اجلاس میں اعلان کیا کہ ایران نے 10 آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے اور اسے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں سنجیدگی کا ثبوت قرار دیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے کہا، "ہم آپ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم سنجیدہ اور قابلِ اعتماد ہیں — اس لیے آٹھ بڑے آئل ٹینکرز گزرنے دیتے ہیں”، اور بعد میں یہ تعداد 10 تک پہنچ گئی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ یہ ٹینکرز پاکستانی پرچم بردار تھے۔ انہوں نے فاکس نیوز پر خبر دیکھی تو کہا، "میں نے سوچا، ٹھیک ہے، ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔” ایران نے بعد میں کسی بات پر معذرت بھی کی اور دو مزید بوٹ بھیجنے کی پیشکش کی۔
صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف کرنے سے پہلے اپنے مشرقِ وسطیٰ کے مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف سے اجازت مانگی اور پوچھا "اسٹیو، کیا میں یہ تحفہ ظاہر کر سکتا ہوں؟”
آبنائے ہرمز تقریباً چار ہفتوں سے امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد عملاً بند ہے جس کے باعث عالمی توانائی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر ایک بار پھر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا کہ 6 اپریل کی رات 8 بجے (واشنگٹن وقت) ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا جائے گا اگر آبنائے کو مکمل طور پر نہ کھولا گیا۔
تاہم ایران کے رہنماؤں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے اور اسے قیمتیں نیچے لانے کی حکمتِ عملی قرار دیا ہے۔

