"ایران دھمکیاں بند کرے تو آبنائے ہرمز کل ہی کھل سکتا ہے” — امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

IMG 20260327 WA2118


پیرس / واشنگٹن — امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر ایران عالمی بحری جہاز رانی کو دھمکیاں دینا بند کر دے تو آبنائے ہرمز کل ہی کھل سکتا ہے۔ 
روبیو نے ایران کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایک "سنگین اشتعال انگیزی” ہے اور دنیا کے تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ 
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کو بہت کم توانائی ملتی ہے، اس لیے اس سمندری گزرگاہ کی بحالی دنیا کے مفاد میں ہے اور دیگر ممالک کو آگے بڑھ کر اس معاملے کو حل کرنا چاہیے۔ 
جی سیون اجلاس کے موقع پر یورپی رہنماؤں نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو "عالمی معیشت کے لیے تباہ کن” قرار دیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ یہ یورپ کی جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔ 
روبیو کا جواب تھا: "اگر یورپ کے لیے یوکرین کی جنگ ‘ان کی جنگ’ ہے، تو پھر ایران بھی ان کا معاملہ ہونا چاہیے — یہ فیصلہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔” 
پس منظر: 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں — 2022 کے بعد سب سے بڑا اضافہ۔ 
تاہم روبیو نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں، ثالث ممالک پیغامات پہنچا رہے ہیں اور کچھ پیشرفت ہوئی ہے — آبنائے سے توانائی کی ترسیل میں محدود اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ 

متعلقہ پوسٹ