اسلام آباد — عالمی بینک کے ادارے انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی بی آر ڈی) کی جانب سے پاکستان کو تقریباً 37 کروڑ 89 لاکھ ڈالر (تقریباً 10 ارب روپے سے زائد) کی مالی معاونت فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ رقم ملک کے توانائی ترسیلی نظام کی جدید کاری اور بہتری کے لیے مختص کی جائے گی۔
اس منصوبے میں ایشیئن انفراسٹریکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) 9 کروڑ 25 لاکھ ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) 9 کروڑ 27 لاکھ ڈالر کی معاونت فراہم کریں گے، جس سے منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 69 کروڑ 87 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
منصوبے کا بنیادی مقصد ٹرانسمیشن کی کارکردگی بہتر بنانا، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے تحت ماتیاری سے رحیم یار خان تک 500 کلو وولٹ ٹرانسمیشن کوریڈور تعمیر کیا جائے گا تاکہ جنوب، وسط اور شمالی پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
عالمی بینک نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ عالمی بینک کے جائزے کے مطابق پاکستان کی بجلی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم ٹرانسمیشن نظام کی کمزوریوں کے باعث سستی بجلی ملک بھر میں موثر طریقے سے فراہم نہیں ہو پا رہی۔اس کے علاوہ بلوں کی کم وصولی اور سسٹم نقصانات بھی شعبے کے بڑے مسائل قرار دیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ 2026 سے 2035 تک کے 10 سالہ اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے جو پاکستان کے ٹرانسمیشن سسٹم توسیعی منصوبے (ٹی ایس ای پی 2024-34) کو سہارا دے گا۔ عالمی بینک نے 2030 تک پاکستان کے توانائی مرکب میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک پہنچانے کے ہدف کو بھی اس منصوبے سے مربوط کیا ہے۔

