’میرے نزدیک اس مشکل وقت میں شاعری کرنا قبرستان میں وائلن بجانے جیسا ہے‘

1774292526 FotoJet 1


جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔

FotoJet 1

السٹریشن: دی وائر اور علامتی تصویر بہ شکریہ: اے پی / محمود الیان

’میرے نزدیک اس مشکل وقت میں شاعری کرنا قبرستان میں وائلن بجانے جیسا ہے‘

تقریباً پچیس سال پہلے اپنی نظموں کے مجموعے’فریزر میں رکھی شام‘ کے دیباچے کا یہ جملہ مجھے ان دنوں بار بار یاد آتا رہا۔

دراصل گزشتہ ربع صدی میں سوشل میڈیا نے اور اس کے بعد نام نہاد شعر و ادب کے جشنوں نے جین زی کو اردو شاعری کے تعلق سے ایک طرح کے جنون میں مبتلا کر  دیا، جس کے نتیجے میں شاعری کی جگہ شعرگری اور  جذبات و احساسات کی جگہ پرفارمنس نے لے لی۔

کبھی کبھی کچھ اشعار البتہ مردہ لفظوں کی بھیڑ میں ستاروں کی طرح جگمگاتے نظر آ جاتے ہیں۔

پتہ نہیں کس نے کہا تھا کہ ؛


اگر کسی معاشرے سے اس کے ادیب و شاعر دس برس کے لیے نکال دیے جائیں تو ان دس برسوں میں پورا معاشرہ ایک وحشی آبادی میں تبدیل ہو جائے گا۔


 یہاں تو معاملہ ہی بالکل برعکس ہے۔ معاشرے کو ہی شعر و ادب سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ رسائل ہندوستان کی حد تک برائے نام رہ گئے ہیں جنہیں انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے۔

اگر نام نہاد بڑے شاعروں کی انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی رِیل کی ریل پیل کو بھی شاعری مان لیا جائے تو اسے بازار کی چکاچوند نے پوری طرح نگل لیا ہے۔

شعراء سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے رابطے میں ہیں تاکہ اپنی شاعری کو وائرل کرا کے اگلے مشاعرے میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان کی ترجیحات میں انسانیت اور دردمندی کی جگہ مشاعرے کے ملک اور بیرونِ ملک پھیلے بازار نے لے لی ہے جس میں شرکت لفافے کے علاوہ اس بات پر مشروط ہوتی ہے کہ ایسے شعر نہ سنائے جائیں جو فرمانروائے وقت کے طبع نازک پر بار ہوں یا جن سے مشاعرے کی اسپانسر شپ پر کسی طرح کی آنچ آنے کا امکان ہو۔

ایسے میں جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔

آشوبیدہ غزلیں

 

جنگ میں اس کے ساتھ ہے جو بھی اندھا بہرہ شامل ہے

روز نیا اک قتلِ عام ہے جس میں دنیا شامل ہے

 

کس نے سورج مار گرایا چاند ستارے سب غائب

سب سے زیادہ رونے والوں میں اندھیارا شامل ہے

 

انسانیّت نے لہراے جواباً اپنے زخمی ہاتھ

پوچھ لیا تھا مرنے والوں میں کوئی اپنا شامل ہے

 

ہر چمکیلی بالی کو گھیرے بیٹھی ہے فصل نئی

سارے کھیت ہیں اس کے جن میں سبز سنہرا شامل ہے

 

ہاتھوں میں ہیں اتنے ہاتھ دلوں میں اتنے منافق دل

مشکل ہے پہچان کہ بندہ کس میں کتنا شامل ہے

 

ہم نے ورثے میں پایا ہے جاگتے رہنا راتوں کا

اس گھر کی تعمیر میں پچھلے گھر کا ملبہ شامل ہے

 

گن سکتے ہو قبروں پر گلدستے رکھنے والے ہاتھ

خاک کسی کی بکھری ہے اور خون کسی کا شامل ہے

♦♦♦

روئے ہمیں بغداد پہ تہران پہ روئے

اسلام سے جھگڑے کبھی ایمان پہ روئے

 

دم توڑتے بچوں کی بھی چیخوں پہ ہنسے آپ

اپنی تو ہر اک ٹوٹتی فنجان پہ روئے

 

مایوسی بری شے ہے اگر بھا گئی دل کو

کیا لوگ ہیں خوش ہونے کے امکان پہ روئے

 

نقصان کا ان کے تمہیں اندازہ نہ ہوگا

جو لوگ ابھی امن کے اعلان پہ روئے

 

اس قوم کو ملتا نہیں کیا کام کوئی اور

فرصت ہے کسے بیٹھ کے ایران پہ روئے

 

کچھ سب کو رلانے پہ اتر آئے تو کچھ لوگ

دنیا کی بنائی ہوئی میزان پہ روئے

♦♦♦

ہونا تھا جو وہ ہو چکا نقصان آگ میں

فصلیں نئی اگائیں گے دہقان آگ میں

 

پانی جدھر سے آئے اسی سمت بھاگیے

ہوتی نہیں ہے شکل کی پہچان آگ میں

 

کل رو پڑے پرانے سب آتش پرست بھی

پوری طرح سے جن کا تھا ایمان آگ میں

 

ہم سے عقیدتوں نے لیا سخت امتحان

اب ناچتے ہیں ہو کے بھی ہلکان آگ میں

 

کب سرد ہوں نہ جانے یہ مطبخ خداؤں کے

ایندھن کی طرح جلتے ہیں انسان آگ میں

 

اک روز دیکھ لینا یقیناً بجھے گی آگ

ہاتھ اپنے جب جلائیں گے شیطان آگ میں

 

ہرگز نہ اس کلام سے کوئی نکالے فال

ایسا نہ ہو سلک اٹھے دیوان آگ میں

♦♦♦

خدائی کا سب یزید نشّہ کئے ہوئے تھے

خدا کے بندے تو مسجدوں میں چھپے ہوئے تھے

 

دعاؤں والی یہ بستیاں تو اجڑنی ہی تھیں

تباہیوں والے ہاتھ اتنے سدھے ہوئے تھے

 

صدا اذانوں کی چار جانب خدا نہیں تھا

سڑی تھیں روحیں بدن ہمارے گلے ہوئے تھے

 

مری بھی جانے کی الٹی گنتی ہوئی شروع اب

جنھیں میں زندہ سمجھ رہا تھا مرے ہوئے تھے

 

سلام کا یہ نیا طریقہ پسند آیا

جو ہاتھ لہرا رہے تھے سارے بندھے ہوئے تھے

 

سلک رہی تھی امید صحرا کی ریت لیکن

نصیب والوں کے پاؤں ابکے کھلے ہوئے تھے

 

گزرنے والوں سے ان کی باتیں میں سن کے رویا

ترقی پا کر جو کھیت بازار کے ہوئے تھے

♦♦♦

چن چن کے باغ باغ سے مارے گئے ہیں یوں

سمجھے گا کون پھول ہمارے گئے ہیں یوں

 

اس بدچلن زمانے کا کردار کھل گیا

چاروں طرف سے اتنے اشارے گئے ہیں یوں

 

مایوس سربریدہ گنہگار شرمسار

محفل سے سارے لوگ تمہارے گئے ہیں یوں

 

خاشاک کے ہوں ڈھیر ہم انسان ہی نہ ہوں

چھو کر بدن بدن کو شرارے گئے ہیں یوں

 

پھٹ جائے کائنات کا دل بھی اگر ہو دل

ہم پاگلوں کی طرح پکارے گئے ہیں یوں

 

اب تم ہمیں سدھارنے آئے ہو شکریہ

گنجائشیں نہیں ہیں سدھارے گئے ہیں یوں

 

تاریخ نے بھی پھیر لیں آنکھیں اک آن میں

کاٹے گئے ہیں اس طرح مارے گئے ہیں یوں

♦♦♦

کس کے سر کس کی زباں کا حکم ہے

بولیے آقا مرے کیا حکم ہے

 

ایک جملے پر عدالت ملتوی

اتنا کہہ دیجے ہمارا حکم ہے

 

پوچھتے ہی رہ گئے جلّاد سے

آدمی کا یا خدا کا حکم ہے

 

دستخط اُس کے تو اِس پہ یوں بھی ہیں

جس قدر یہ جاہلانہ حکم ہے

 

لاش بھی جمہوریت کی سڑ چکی

دفن ہوگا اب جنازہ حکم ہے

 

شاعری کے نام پر بکواس بند

حکم ہے اور شاعرانہ حکم ہے

♦♦♦

سبھی چاک آب اور کل میرے اندر

بپا ہے رقص بسمل میرے اندر

 

میں دن رات ان کی شکلیں دیکھتا تھا

سو اب ہیں سارے قاتل میرے اندر

 

شہیدوں کے گلے لگ آ کے مجھ میں

محرم عید سے مل میرے اندر

 

حقیقت جنگ ہونے پر کھلی ہے

بسے ہیں کتنے بزدل میرے اندر

 

بہت گہرا ہے دونوں کا تعلق

کئی قاتل ہیں بسمل میرے اندر

 

معطل کارخانہ زندگی کا

مسلسل موت کی مِل میرے اندر

♦♦♦

صبر کرنے پہ کہاں درد ہمارا نکلا

رو پڑی قبر بھی ہر فرد ہمارا نکلا

 

حکم پر کس کے بجایا گیا نقارۂ جنگ

گھر سے تو صرف جوانمرد ہمارا نکلا

 

ایسی دہشت کہ تھا اندیشۂ جاں موت کو بھی

بھیڑ میں کوئی نہ ہمدرد ہمارا نکلا

 

سب کو افسوس بہت کند تھی خنجر کی دھار

پوچھنے کوئی نہ دکھ درد ہمارا نکلا

 

کتنا سفاک زمانہ ہے اسے شرم نہیں

فخر ہوتا ہے کہ بے درد ہمارا نکلا

 

اپنے اندر ہے وہی گریہ و زاری دن رات

دف بجاتا ہوا نامرد ہمارا نکلا

 

سب غلط کہتے تھے اچھا نہیں بدلا لینا

جس قدر زخم لگے درد ہمارا نکلا

♦♦♦

بدلیں جناب نام کہ جھگڑا ہے نام کا

جلدی اتاریے جو لبادہ ہے نام کا

 

دیکھا ہے اس درندے کو ہم نے قریب سے

وہ آدمی تو خیر بچارا ہے نام کا

 

رونے پہ آئیے بھی تو کس کس کو روئیے

ہیں نام کے ستون ادارہ ہے نام کا

 

مارے تو جا چکے ہیں پہ دہشت نہ کم ہوئی

دیکھو کسی کی قبر پہ کتبہ ہے نام کا

 

یہ طور بھی سکھایا ہمیں کاروبار نے

اندر سے ہم کچھ اور ہیں پردہ ہے نام کا

 

یہ دکھ نہیں جھلکتے کسی اور نام سے

دکھ کا یہ جو دفینہ ہے جلوہ ہے نام کا

 

جو لمحہ کٹ رہا ہے قیامت سے کم نہیں

میدان حشر میں وہ نظارہ ہے نام کا

 

قاتل کے ہاتھ چومیں گے سارے تماش بین

مقتول شکل سے ہی اشارہ ہے نام کا

 

سچ بولتے ہیں دوست بڑے حوصلے کے ساتھ

لیکن ہمارے ساتھ جھمیلا ہے نام کا

 

ڈوبے اگر تو ڈوبے گی دنیا ہمارے ساتھ

سب ڈوبتے ہوؤں کو سہارا ہے نام کا

 

ہم بدنصیب جیتے ہیں غالب کے دور میں

اک آدمی ہمارا مسیحا ہے نام کا

♦♦♦

غم چاروں طرف غم ہے تمہیں عید مبارک

اپنا تو محرّم ہے تمہیں عید مبارک

 

اطراف میں تیار ہیں سب زہر کی فصلیں

خون ریز یہ موسم ہے تمہیں عید مبارک

 

انسان کا ہے خون جسے دیکھ کے خوش ہو

یہ خیر مرا غم ہے تمہیں عید مبارک

 

اللہ کے ڈر سے ہے سوا بھیڑ کی دہشت

ہر خطّہ جہنم ہے تمہیں عید مبارک

 

ہے جرم مرے قتل کا چرچہ بھی سرِ عام

سو آہ و فغاں کم ہے تمہیں عید مبارک

 

انصاف پہ اخبار پہ جمہور پہ لعنت

ہر ایک کا ماتم ہے تمہیں عید مبارک

(نعمان شوق ممتاز شاعر اورادیب ہیں۔ اجنبی ساعتوں کے درمیان، جلتا شکارا ڈھونڈنے میں، فریزر میں رکھی شام اور اپنے کہے کنارے ان کی شعری تخلیقات ہیں)





Source link

متعلقہ پوسٹ