دنیا بھر میں پھانسیوں کی تعداد 1981 کے بعد سب سے زیادہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

IMG 20260518 WA1356 2


لندن – انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں پھانسیوں کی تعداد چالیس سال سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ سال کم از کم 2,707 افراد کو 17 ممالک میں پھانسی دی گئی، جو 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 1,518 سے 78 فیصد زیادہ ہے۔ یہ 1981 کے بعد ایمنسٹی کی ریکارڈ کردہ سب سے زیادہ تعداد ہے جب 3,191 پھانسیاں دی گئی تھیں۔
اس اضافے کی بڑی وجہ ایران ہے جہاں 2,150 سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی۔ سعودی عرب، یمن اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی پھانسیاں دی گئیں، البتہ چین ہزاروں پھانسیاں دیتا ہے جن کا سرکاری اعداد و شمار خفیہ رکھا جاتا ہے۔
ایمنسٹی نے اس رجحان کو "خوف کا آلہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں نے جرائم پر قابو پانے اور سیاسی کنٹرول کے لیے سزائے موت کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پھانسی جرم کا حل نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پھانسی دینے والے ممالک کی تعداد کم ہے اور دنیا کے تقریباً تین چوتھائی ممالک نے سزائے موت کو ختم کر دیا ہے یا عملی طور پر معطل کر رکھا ہے۔

متعلقہ پوسٹ