سعودی-امریکہ جوہری معاہدے پر امریکی اراکینِ کانگریس کو خدشات، ٹرمپ کی نئی شرط


واشنگٹن: امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے حالیہ جوہری معاہدے پر متعدد امریکی اراکینِ کانگریس اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی محکمۂ توانائی نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے کئی دہائیوں پر مشتمل، اربوں ڈالرز مالیت کے پُرامن شہری جوہری تعاون اور حفاظتی اقدامات سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری امریکی کانگریس سے حاصل کرنا ہوگی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم کی افزودگی نہیں ہوگی اور امریکہ صرف غیر افزودہ ایندھن پر مبنی پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یورینیم کی افزودگی عالمی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ممنوع نہیں، تاہم زیادہ درجے کی افزودگی سے جوہری ہتھیار بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کے لیے طویل عرصے سے شہری جوہری پروگرام کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ پُرامن شہری جوہری تعاون کے معاہدے پر نئی شرط عائد کر دی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کو منظوری تو دی جائے گی، لیکن یہ مکمل طور پر اس بات سے مشروط ہوگا کہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے، بصورتِ دیگر معاہدہ ختم تصور کیا جائے گا۔
الجزیرہ کے مطابق ابراہیمی معاہدہ پہلی بار 2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ کیا تھا، بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس میں شامل ہوگئے، جبکہ امریکہ کئی برسوں سے سعودی عرب پر بھی اس معاہدے میں شمولیت کے لیے زور دیتا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ