پرہلاد جوشی: وزیرِ تعلیم بننے کے بعد پہلا ردِعمل


مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ہندوستان کا نیا مرکزی وزیرِ تعلیم مقرر کر دیا گیا ہے۔ انہیں وزارتِ صارفین کے امور کے ساتھ ساتھ وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔ طلبہ کے احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
نو مقرر مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی نے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے جذبے کے ساتھ قبول کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”وزیراعظم نے مجھے ایک اہم ذمہ داری دی ہے۔ میں اسے فرض شناسی اور انکساری کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا: ”وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ۱۲ برسوں کے دوران حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ چار سے پانچ برسوں میں دھرمیندر پردھان نے بھی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کی رہنمائی میں، میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا۔”
اس سے قبل، ملک بھر میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک معاملے پر طلبہ کے احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پردھان نے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں، تاہم گزشتہ دس دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے انہیں شدید پریشان کیا۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کی نئے وزیرِ تعلیم سے تین بڑی توقعات
نیٹ پرچہ لیک کے خلاف تقریباً ایک ماہ تک جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے سے ان کا ایک اہم مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن وہ توقع رکھتے ہیں کہ نئے وزیرِ تعلیم تعلیمی نظام میں حقیقی اور مؤثر اصلاحات کریں گے۔ پی ٹی آئی کے استفسار پر مختلف ریاستوں سے آئے مظاہرین نے تین اہم مطالبات بار بار دہرائے: امتحانی نظام میں مکمل شفافیت، سستی اور معیاری تعلیم، اور سرکاری اسکولوں و ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنانا۔

متعلقہ پوسٹ