ساون کی بارش — پاکستان کی مشترکہ روح

تحریر محمد سلیم سے


موسم جب زمین پر اترتے ہیں تو صرف درجۂ حرارت نہیں بدلتا۔ زبان کا لہجہ، تہذیب کا مزاج اور انسان کے باطن کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ پاکستان میں بارش کا موسم اسی تبدیلی کا سب سے دلآویز استعارہ ہے۔
موسم اپنے ساتھ صرف ہوا کا ایک جھونکا یا بادلوں کا ایک قافلہ نہیں لاتا، بلکہ صدیوں کی تہذیب، زبان، تاریخ اور انسانی احساسات کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے آتا ہے۔ جب پہلی بارش کی خوشبو مٹی سے اٹھتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ زمین مختلف زبانوں میں ایک ہی دعا دہرا رہی ہے۔ کہیں اسے سَماء کی رحمت کہا جاتا ہے، کہیں شراون کی برکت، کہیں ساون کی مستی، کہیں برکھا رُت کا سنگیت، کہیں میگھ رُت کی نغمگی، کہیں برشگال کی لطافت اور آج کی سائنسی دنیا میں اسے مون سون۔ نام بدلتے رہتے ہیں، مگر بارش کی روح ایک ہی رہتی ہے۔
پاکستان کی تہذیب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہاں موسم صرف قدرتی مظاہر نہیں ہوتے بلکہ تہذیبی، لسانی اور ادبی شناختوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ایک ہی موسم کو مختلف تہذیبوں اور زبانوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف نام دیے ہیں۔ سما، ساون، شراون، برکھا رُت، میگھ رُت اور برشگال — یہ سب نام دراصل ایک ہی بارش کے مختلف تہذیبی چہرے ہیں۔
یہ داستان آسمان سے شروع ہوتی ہے۔ عربی زبان میں سَماء صرف آسمان نہیں بلکہ رفعت، رحمت، وسعت اور الوہی فیضان کا استعارہ ہے۔ قرآن مجید کی زبان میں یہی سَماء بارش کو اپنے دامن میں پالتا ہے، بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور زندگی کو پیاسی زمین تک پہنچاتا ہے۔ صحرا کے باسی جانتے ہیں کہ زندگی پہلے سَماء میں اترتی ہے، پھر زمین پر۔ سَماء انسان کے باطن کی وسعت بھی ہے۔ جس دل میں امید باقی ہو، اس کا بھی ایک سَماء ہوتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اور بھی گہرا رنگ دیا ہے۔ شاعر کے نزدیک سَماء وہ کینوس ہے جس پر بادل خواب لکھتے ہیں اور بارش محبت کے خط بن کر زمین پر اترتی ہے۔
یہی بارش جب پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتی ہے تو قدیم روایات اسے شراون کے مقدس مہینے سے جوڑ دیتی ہیں۔ وقت کی دھول سے گزرتے ہوئے یہی شراون عوامی لہجوں میں ڈھل کر ساون بن جاتا ہے، اور پھر محبت، ہجر، وصال، جھولوں، مہندی، کجری اور دیہی زندگی کا حسین استعارہ بن کر اردو، پنجابی، سندھی اور سرائیکی کی شاعری میں زندہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دیہی پنجاب میں ساون اب بھی جھولوں، لوک گیتوں اور مٹی کی خوشبو کا موسم ہے۔
یہاں بارش کو برکھا رُت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف پانی نہیں، رقص کرتی ہوئی فطرت ہے۔ پیپل کے درخت، آم کی ڈالیاں، مور کا رقص اور جھولوں کی پرواز سب مل کر ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں زمین خود ایک نظم معلوم ہوتی ہے۔ جب نگاہ بادلوں کی طرف اٹھتی ہے تو یہی موسم میگھ رُت بن جاتا ہے۔ میگھ یعنی بادل، کلاسیکی موسیقی میں راگ میگھ اور میگھ ملہار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ روایت کہتی ہے کہ جب ساز پر میگھ ملہار کی تان چھیڑ دی جائے تو بادل بھی ٹھہر کر سننے لگتے ہیں۔
فارسی تہذیب نے اسے موسمِ باراں کہا۔ یہاں بارش صرف کھیتوں کو سیراب نہیں کرتی بلکہ دلوں کو بھی شفاف بناتی ہے۔ صوفیا کے نزدیک ہر قطرہ رحمت کا حرف ہے، ہر بادل معرفت کا مسافر اور ہر بارش انسان کے باطن کی تطہیر کا استعارہ۔ جدید سائنس نے اسے مونسون کا نام دیا — عربی ’’موسم‘‘ سے یورپی زبانوں تک پہنچا ہوا لفظ جو آج عالمی موسمیات کی اصطلاح بن چکا ہے۔ سائنس ہواؤں کی سمت اور سمندری دباؤ کا حساب دیتی ہے، مگر شاعر جانتا ہے کہ بارش کو صرف نقشوں سے نہیں، دل سے بھی پڑھا جاتا ہے۔
پاکستان کی گنگا جمنی تہذیب کا یہی کمال ہے کہ یہاں لفظ جدا ہوتے ہیں مگر احساس مشترک رہتا ہے۔ کسان کے لیے یہ فصل کی نوید ہے، شاعر کے لیے تخیل کی بارش، موسیقار کے لیے راگ کی لے، صوفی کے لیے رحمتِ خداوندی اور عام انسان کے لیے یادوں کا موسم۔ شاید اسی لیے پہلی بارش کے ساتھ مٹی کی خوشبو کسی ایک زبان میں نہیں اٹھتی۔ وہ بیک وقت ساون بھی ہوتی ہے، شراون بھی، برکھا رُت بھی، میگھ رُت بھی اور برشگال بھی۔
جب مون سون کے بادل سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر چھاتے ہیں تو یہی مشترکہ روح زندہ ہو جاتی ہے۔ مختلف زبانیں، ایک ہی بارش۔ مختلف نام، ایک ہی دعا۔ یہی پاکستان کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے۔

متعلقہ پوسٹ