وینزویلا نے 17 سال بعد اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کر لیے

وینزویلا نے 17 سال کے وقفے کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک نے حالیہ بات چیت کے بعد شہریوں کو سفارتی خدمات فراہم کرنے کے لیے باہمی طور پر ہم آہنگ طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں جانب سے جاری مشترکہ بیانات کے مطابق یہ فیصلہ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون سعار اور وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسینسیا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کا مقصد ایک ایسا طریقہ کار بنانا تھا جو دونوں ممالک کے شہریوں کو قونصلر اور سفارتی سہولیات فراہم کر سکے۔
وینزویلا نے 2008ء میں اسرائیل کے غزہ پر حملے کے ردِ عمل میں پہلے یہ تعلقات منقطع کیے تھے؛ بعد ازاں 2009ء میں بولیویا کے ساتھ مل کر بھی تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات ریکارڈ ہوئے۔
دونوں حکومتوں نے کہا کہ وہ حالیہ زلزلوں کے بعد ہنگامی امداد اور تعمیرِ نو میں تکنیکی تعاون جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ وینزویلا نے زلزلوں میں ہلاکتوں کی تازہ ترین تعداد 6,301 بتائی ہے، جب کہ پڑوسی ملک کولمبیا میں اموات 213 تک پہنچ چکی ہیں۔
اس پیش رفت کا ایک پس منظر یہ ہے کہ کولمبیا نے ایک روز قبل اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر قبضے کو تسلیم کر دیا تھا، جسے شام اور بین الاقوامی برادری میں تنقید کا سامنا رہا۔ کولمبیا نے مئی 2024 میں کشیدگی کے بعد اسرائیل سے تعلقات منقطع کیے تھے۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ تکنیکی تعاون کو آگے بڑھائیں گے، خصوصاً زلزلہ زدگان کے لیے امدادی و تعمیراتی کاموں میں۔

متعلقہ پوسٹ