
(24نیوز)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے دنیا کو لیکچر دینے سے باز رہنا چاہیے۔
عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس کا دوہرا معیار واضح اور شرمناک ہے، غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران کے خلاف جارحیت کی فرانس نے حمایت کی، اس حمایت نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون پر بات کرنے کا فرانس کا اخلاقی جواز ختم کر دیا ہے۔
انہوں کا مزید کہنا تھا کہ ایران تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنے شہداء کے خون کو کبھی فراموش نہیں کرے گا، عظیم شہداء کا خون بہانے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے عباس عراقچی ن کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اگر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کرپشن کے خاتمے کیلئے اینڈ ٹو اینڈ آٹومیشن پیپر لیس سسٹم کارگر ثابت ہوگا:مریم نواز
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی خلاف ورزیوں کے خاتمے تک بات چیت کا امکان نہیں ہے،آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ حتمی مراحل میں ہے تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولا جائے گا۔

