آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد دو بڑی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اختلافات اور کشیدگی بڑھی ہے جس کی ذمے داری دونوں ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں جب کہ جی بی کے انتخابات میں یہ نوبت نہیں آئی تھی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے کمزور انتخابی مہم چلائی اور پی پی کو آگے آنے کا بھرپور موقع دیا جس کے باعث وہاں کے انتخابات میں پی پی کو کامیابی ملی اور مسلم لیگ ن میدان نہ مار سکی۔
اس کامیابی پر پی پی انتہائی خوش ہوئی ، اور کسی نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ہمارے یہاں یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ ہارنے والا الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتا اور احتجاج کرتا ہے،اور دوسری جانب کامیاب ہونے والے امیدوار کے نزدیک انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوئے ہوتے ہیں۔یہی ہمارے ہاں ہوتا آیا اور اب بھی ہو رہا ہے۔
پی پی رہنماؤں کی طرف سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلیوں کے مسلسل الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اتحادی حکومت کو مختلف سیاسی دھمکیاں بھی دی گئی جس پر (ن) لیگ کا موقف ہے کہ اس نے وہ کچھ نہیں کیا تھا جو پی پی کر رہی ہے اور وہاں اپنی حکومت بھی بنا چکی ہے۔ (ن) لیگ کو معاملہ ٹھنڈا ہونے کی امید ہے۔ جب جی بی میں حکومت سازی کا مسئلہ دونوں پارٹیوں نے آپس میں بیٹھ کر حل کر لیا تھا تو آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد دونوں پارٹیوں کو ضد کی بجائے مل کر معاملات کو حل کرنا ہوگا ورنہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔
ملک کے عوام حکومت سے نالاں اور مہنگائی اور بے روزگاری سے ازحد پریشان ہیں جن کی دونوں بڑی اتحادی پارٹیوں کو فکر نہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ، بلوچستان میں اپنی حکومتی کارکردگی کو پنجاب کی طرح بہتر بنانے کی بجائے جی بی کے بعد آزاد کشمیر میں بھی اپنی حکومت چاہتی ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنا کر پہلے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرکے صورت حال معمول پر لائے اور بعد میں آزاد کشمیر میں بھی پنجاب کی طرح کارکردگی دکھائے اور ترقی دلائے۔
آزاد کشمیر پنجاب کے قریب اور سندھ سے دور ہے اور اس کا پنجاب سے تعلق زیادہ ہے اور کشمیری مہاجرین کی زیادہ نشستیں بھی پنجاب ہی میں ہیں مگر پی پی آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کر رہی جب کہ وہاں 6 ماہ سے خود پی پی کی اپنی حکومت بھی ہے مگر وہ نتائج سے مطمئن نہیں ہے۔ آزاد کشمیر میں پی پی کا اپنا وزیر اعظم ہے پھر انتخابات میں دھاندلی کا الزام کیوں لگایا جا رہا ہے۔ ملک چار سال سے سیاسی استحکام سے محروم ہے مگر اتحادیوں کو فکر نہیں جب کہ ضروری ہے کہ ملک کے اجتماعی مفاد میں بڑی پارٹیاں انتہا پسندی کی بجائے اعتدال پسندی اختیار کریں۔ جس پارٹی کو جہاں عوام کا مینڈیٹ ملا ہے اس پر قناعت کریں اور عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کچھ کرکے دکھائیں۔
اس سلسلے میں حکومتی پارٹیوں پر زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی انتخابی نتائج متنازع رہے اور اب بھی ہیں۔ سب سے زیادہ ضرورت جے یو آئی کو مطمئن کرنے کی ہے ، اس کے لیے لازم ہے کہ پہلے ناراض پارٹیوں کے تحفظات دور ہونے چاہئیں اور جماعت اسلامی کی بھی سنی جائے اور باقی عرصہ باہمی افہام و تفہیم سے گزار لیا جائے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنا موقف بیان کرتے رہتے ہیں۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی طرف سے اختیار کی گئی مبینہ خاموشی معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد لانگ مارچ کی نوبت نہیں آئے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بانی کی صحت سے متعلق بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور حکومتی وضاحتوں کو پی ٹی آئی تسلیم نہیں کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی کا موقف ہے کہ حکومت نے بانی سے ملاقاتیں بند کرکے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے اور وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے مجھے بھی بانی سے ملنے نہیں دیا جا رہا، تاہم حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے اور ہمارا مشترکہ فیصلہ مزاحمت کا ہے مگر حکومت سے مذاکرات ٹرک کی بتی نہیں ہونے چاہئیں۔
بانی کے سینئر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 19صفحات کے تحریری دلائل بھی جمع کرائے ہیں اور استدعا کی ہے کہ بانی کی مکمل میڈیکل رپورٹس تک رسائی اور ان کی اہلیہ کو دن میں ایک بار ساتھ کھانے کی اجازت دی جائے۔ ملکی سیاسی صورتحال اس وقت پرامن جا رہی ہے اور حکومت کی بھی کوشش ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال میں کوئی ایسی ہلچل اور افراتفری پیدا نہ ہو جو حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے۔

