یہ ہماری حکومت ہے؛ جسے ہم شہریوں نے منتخب کیا ہے اور جو ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔ اسے جائز تنقید، تبصروں اور صحافت پر پابندی لگانے اور اسے دبانے کی روش سے باز آنا چاہیے۔حکومت کو ملک میں سینسرشپ نافذ کرنے والے تمام قدم فوراً پیچھے کھینچنے چاہیے۔
علامتی تصویر، بہ شکریہ: بل کیر/فلکر، سی سی بی وائی- ایس اے 2.0
گزشتہ ماہ نوجوانوں کی تحریک، ملک گیر احتجاجی مظاہروں، خصوصی طور پر 20 جولائی کے بعد سے مودی حکومت اورزیادہ خوف میں مبتلا ہو گئی ہے، اور آن لائن مواد کو من مانی طور پر لگاتار ہٹانے کی قواعد اس کا ثبوت ہے۔ حکومت کے کئی محکمے اور ایجنسیاں اب اس اختیار سے لیس ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ جب سے حکومت کو یہ احساس ہوا ہے کہ جنریشن زی، وائی اور ایکس مل کر اس پر سخت تنقید کرنے میں مصروف ہیں، تب سے خاص طور پر انسٹاگرام پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
سینسرشپ کا دائرہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ حالات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ متعدد نیوز پلیٹ فارم، جن میں دی وائر اور یوٹیوب پر کام کرنے والے صحافی بھی شامل ہیں، انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے جیسے بنیادی طریقہ کار پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا؛ بغیر کسی نوٹس کے ہی مواد غائب ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد صرف چند معاملوں میں( انتہائی کم کہیں تو بہتر ہوگا)سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ویڈیو ہٹانے کے لیے کہنے سے پہلے محض رسمی کارروائی کے طور پر نوٹس بھیج دیا جاتا ہے۔

حکومت ہند ہر سال آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اے اور آئی ٹی ضابطہ کے تحت مواد بلاک کرنے اور اسے ہٹانے کے ہزاروں احکامات جاری کرتی ہے۔ ان میں ایکٹ کی دفعہ 79(3)(بی) اور 2021 کی انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز کے قاعدہ 3(1)(ڈی) کے تحت ’سہیوگ‘ پورٹل کے ذریعے مواد ہٹانے کے احکامات شامل نہیں ہیں۔ موصولہ جانکاری کے مطابق، حکومت کی جانب سے مواد بلاک کرنے کی درخواستوں اور احکامات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے؛ صرف دفعہ 69اےکے تحت سالانہ احکامات کی تعداد تقریباً 6,000 سے بڑھ کر 2025 کے اواخر تک تقریباً 24,300 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، سائبر کرائم اور وزارت داخلہ کی اکائیوں نے بھی لاکھوں مشتبہ مواد کو نشان زد (فلیگ)یا بلاک کیا ہے۔
اب صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، خصوصی طور پر ایسے وقت میں جب ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے احتجاج کے باعث حکومت کی حقیقت پوری طرح سب کے سامنے آ گئی ہے۔
اور تو اوراب بڑے پیمانے پر ہورہی اس سینسرشپ کو معمول کی بات سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اس سے متعلق کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان عدالتوں نے پہلے ہی آئی ٹی ایکٹ، 2021 کی ان دفعات پر روک لگا دی تھی جو حکومت کو نیوز مواد ہٹانے کے لیے بے تحاشا ہنگامی اختیارات دیتی ہیں۔ ایسے اختیارات آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے)کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جو تمام شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور نیوز میڈیا کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔
عدالتوں میں ان معاملوں کی سماعت ابھی جاری ہے، اور اسی دوران مرکزی حکومت آن لائن نیوز میڈیا پر قواعد و ضوابط کا بوجھ بڑھاتے ہوئے آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کے لیے مزید ترامیم لے آئی ہے۔ یہ توواضح ہے کہ اب کئی سطحوں پر میڈیا کی آزادی پر حملہ ہو رہا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد اور خودمختار میڈیا جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے اور شہریوں کے لیے ایک شفاف اور آزادانہ نظام میں اپنی پسند کی حکومت کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے لیے معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے، انہیں اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے سامنے آنا چاہیے۔
یہ ہماری حکومت ہے؛ جسے ہم شہریوں نے منتخب کیا ہے اور جو ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔ اسے جائز تنقید، تبصروں اور صحافت پر پابندی لگانے اور اسے دبانے کی روش سے باز آنا چاہیے۔ حکومت کو ملک میں سینسرشپ نافذ کرنے والے تمام قدم فوراً پیچھے کھینچنا چاہیے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

