واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
یہ مشقیں 10 روز تک جاری رہنے والی تھیں اور ان کے آغاز سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ان میں بڑی حد تک کمی کا حکم دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے فوجی مشقوں میں کمی کی ایک وجہ ان پر آنے والے اخراجات کو قرار دیا جبکہ جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ نہ لینے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ مشقیں مکمل طور پر منسوخ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا تھا، تاہم انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت کی کہ ان کی مدت اور حجم میں نمایاں کمی کی جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی نہیں کہ امریکا نے پہلے ان فوجی مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مشقوں کو مہنگا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ایسے ملک کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام جاتا ہے جس کے ساتھ ان کے مطابق ان کے دور صدارت میں شمالی کوریا نے کوئی اشتعال انگیز رویہ اختیار نہیں کیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے ’’بہت اچھے تعلقات‘‘ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جنوبی کوریا کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کرنا مناسب نہیں۔
امریکا اور جنوبی کوریا طویل عرصے سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے آرہے ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ فوجی خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطہ، تربیت اور دفاعی تیاری کو بہتر بنانا ہے۔
حالیہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ واشنگٹن اپنے اتحادیوں سے ایران کے خلاف کارروائیوں اور خطے میں سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے مزید حمایت چاہتا ہے، جبکہ جنوبی کوریا نے اس معاملے میں براہ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
ٹرمپ کے فیصلے سے امریکا اور جنوبی کوریا کے دفاعی تعاون پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شمالی کوریا اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں میں اضافے پر زور دے رہا ہے۔

