چین میں ایک نئی سنسنی پھیل رہی ہے، جہاں ایک عجیب و غریب ’پراسرار‘ اور عام سی نوعیت کی تھری ڈی اینیمیٹڈ فلم ناظرین کو محظوظ کر رہی ہے۔
اینیمیٹڈ فلم ’نیولائی‘ (Niulai) کو ابتدا میں انتہائی خراب تبصرے ملے، لیکن اس سے فلم میں دلچسپی مزید بڑھ گئی اور باکس آفس پر حیران کن تیزی دیکھنے میں آئی۔
یہ فلم ایک بچھڑے کی کہانی ہے، جس نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے خاندان کی مدد سے بڑا ہو رہا ہے۔
پانچ اگست کو ریلیز ہونے کے بعد پہلے 10 دنوں میں فلم نے باکس آفس پر صرف تقریباً 10 ہزار یوآن (1,480 ڈالر) کمائے۔
فلمی اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ’ماؤیان‘ کے مطابق بعض دنوں میں فلم نے باکس آفس پر صرف 200 یوآن (30 ڈالر) کمائے۔ یہ اعداد و شمار غیر معمولی طور پر کم تھے، خاص طور پر موسم گرما کے فلمی سیزن کے دوران۔
لیکن ماؤیان کے مطابق پیر کو فلم کے باکس آفس میں اچانک اضافہ ہوا اور اس نے 8.2 ملین یوآن (1.2 ملین ڈالر) کمائے، جبکہ تقریباً 3 لاکھ افراد نے فلم دیکھی۔
فلم کی مجموعی باکس آفس آمدنی 17.1 ملین یوآن (2.5 ملین ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چین کی مقامی نیوز ویب سائٹ ’ریڈ سٹار نیوز‘ نے رپورٹ کیا کہ یہ فلم پانچ سال کے عرصے میں صرف دو افراد ہدایت کار ژن یومینگ اور ان کی والدہ سن لی فان نے بنائی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس ہدایت کار ژن سے رابطہ نہیں کر سکا اور آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق بھی نہیں کر سکا۔
سینیما گھروں میں نظر آنے والے پوسٹرز میں ایک بچھڑے کی تصویر دکھائی گئی تھی، جسے بغیر رنگ کے قلم سے ہاتھ سے بنایا گیا تھا، جبکہ ساتھ میں ہاتھ سے لکھے نعرے درج تھے: ’اگر آپ عجیب و غریب چیزوں کے شوقین ہیں تو چلے آئیں‘ اور ’رقم واپس نہیں ہوگی‘۔
چین کے مقبول فلمی جائزوں کے پلیٹ فارم ’دوبان‘ پر ناظرین نے طنزیہ اور حیرت زدہ تبصروں کی بھرمار کر دی۔
مقبول ترین کمنٹس میں سے کچھ یہ تھے: ’ناقابلِ یقین حد تک خراب اور آنکھیں کھول دینے والی‘، ’نئی انٹرنیٹ ٹرول ثقافت کی علامت‘ اور ’چینی سٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے لیے لازمی دیکھنے والی فلم‘۔
آخری تبصرہ فلم کے نام ’نیولائی‘ کے ساتھ لفظی کھیل ہے، جس کا چینی زبان میں لفظی مطلب ہے، ’بیل آ رہا ہے،‘ جو مارکیٹ میں تیزی کی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔
’دس میں سے نو سے زیادہ‘ اور ’شاندار اور انتہائی قابلِ سفارش‘ جیسے تبصرے بھی طنزیہ ردعمل میں شامل ہیں۔
شنگھائی کے 19 سالہ کالج طالب علم دو منگ شی نے کہا: ’میرا ابتدائی مقصد ہمیشہ اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق کرنا تھا۔‘
انہوں نے کہا: ’اگر کوئی دوست مجھ سے فلم کے بارے میں پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ اچھی ہے اور اسے دیکھنے کی تجویز دوں گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ وہ کامیابی سے اپنے دو دوستوں کو فلم دیکھنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ دونوں کو فلم دلچسپ لگی، تاہم ان میں سے ایک فلم دیکھتے ہوئے سو گیا۔
دو منگ شی نے نوجوانوں کے اس قسم کی فلم دیکھنے کے لیے سینیما جانے کا موازنہ امریکہ میں چلنے والے پراسرار ’سکس سیون‘ (67) رجحان سے کیا اور کہا کہ کچھ لوگ محض ان چیزوں کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں جو انہیں عجیب یا مضحکہ خیز لگتی ہیں، جبکہ بہت سے لوگ یہ سمجھے بغیر بھی کسی رجحان کا حصہ بن جاتے ہیں کہ وہ دراصل کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’وہ بالکل ایک جیسے ہیں، یہ مضحکہ خیز ہے لیکن یہ بتانا مشکل ہے کہ اس میں کیا مضحکہ خیز ہے، اور نوجوان محض ان میمز کو تیزی سے پھیلانا پسند کرتے ہیں۔‘
تنقید اور میمز کی بھرمار کے باوجود کچھ ناظرین کو فلم کی ابتدائی نوعیت کی تیاری سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
گوانگ ژو کے ایک پیشہ ورانہ سکول کے استاد ژونگ جیامنگ نے اسے ایسے دور میں ایک نایاب دریافت قرار دیا جب فلمیں اکثر ’ظاہری طور پر شاندار اور نفیس ہوتی ہیں، لیکن ان کی کہانیاں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔‘
ژونگ نے کہا: ’یہ نوجوان دل رکھنے والوں کے لیے فلم ہے۔ یہ بچوں کی سونے سے پہلے سنائی جانے والی کہانی کی طرح سادہ اور بے ساختہ ہے۔‘

