طالبان رجیم کے5سالہ قبضے کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر عالمی برادری کی تشویش برقرار ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، خواتین پر سخت پابندیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے باعث افغان طالبان رجیم عالمی سطح پر ایک ناپسندیدہ اور مطعون ریاست (International Pariah State) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
فرانس نے افغان طالبان کے قبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم کے دور میں افغانستان گہرے انسانی، معاشی اور سیکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ طالبان رجیم میں افغانستان کے حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں جوخطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق طالبان خواتین کو عوامی زندگی سے خارج کرنے کے لیے مزید امتیازی قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔ فرانس افغان طالبان رجیم سے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی کے خاتمے تک طالبان سے تعلقات معمول پرآنے کا امکان نہیں ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے 56 رکن ممالک افغان طالبان کےقبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر رجیم کیخلاف مشترکہ بیان جاری کر چکے ہیں۔

