کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کے والدین نے وزیراعلیٰ سندھ سے اپنے وکیل جبران ناصر کے ذریعے قتل کیس کی تفتیش کی براہ راست نگرانی کی درخواست کردی ہے۔
مقتول نوجوان میر رضا کے والدین نے وزیراعلیٰ سندھ کو دی گئی درخواست میں وزیراعظم پاکستان اور پولیس حکام کو شامل کیا گیا ہے، جن سے تحقیقات کی براہ راست نگرانی کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئی تفتیشی ٹیم نئے شواہد تلاش کرنے کے بجائے خودکشی کے مؤقف کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے، اصل تفتیشی ٹیم کی جانب سے میر رضا کی خودکشی کا مبینہ جھوٹا بیانیہ پیش کیا گیا ہے۔
میر رضا قتل کیس میں متعدد سینئر پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ کے وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اور موجودہ تفتیشی ٹیم کے خلاف ضروری کارروائی میں ناکام رہے۔
درخواست میں ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار سمیت متعدد پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن یونٹ سمیع اللہ سومرو کے خلاف بھی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے، اس کے علاوہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی، ایس ایس پی کرائم سین یونٹ آصف علی جاکھرانی سمیت دیگر افسران، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل اور ایس آئی او شبیر لغاری، ایس ایچ او گلستان جوہر کامران اور ڈی ایس پی شاہراہ فیصل ارشد آفریدی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
میر رضا کے والدین نے قتل کیس کی تفتیش میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے شواہد سے مبینہ نامناسب برتاؤ اور تفتیشی خامیوں پر اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
Source link

