وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو ’تعمیری مذاکرات‘ کی دعوت

387990 69982628


وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے ساتھ ’تعمیری مذاکرات‘ میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی میں کمی سے پاکستان کی معاشی ترقی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

ان کی یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی سربراہ عمران خان کی جیل سے رہائی کے مطالبے کے ساتھ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ کی تیاری کر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت میں قائم حکمران اتحاد اور پی ٹی آئی کے گرد متحد اپوزیشن گروہوں کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ریاستی سطح پر اس کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن جاری ہے۔

شہباز شریف نے آج وفاقی کابینہ کے اجلاس سے ٹیلی وژن پر نشر کیے جانے والے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا ’میں اس فورم سے ایک بار پھر اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بیٹھ کر بات کرے۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں تاکہ ہم پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو مضبوط بنا سکیں۔‘

تاہم وزیراعظم نے کہا ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیاری کرنا اب اپوزیشن پر منحصر ہے۔

’اب یہ ان [اپوزیشن] پر منحصر ہے کہ وہ تعمیری مذاکرات کے لیے کتنی جلد تیاری کرتے ہیں۔‘

وزیراعظم کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عمران خان کی صحت کے معاملے پر ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس اور جیل میں طویل حراست کے حالات کے پیش نظر انہیں جامع طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس حکم میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت طے شدہ جیل کے معمول کے طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا ہے اور دیگر قیدیوں کے حوالے سے مساوات سے متعلق خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

تاہم بدھ کو سپریم کورٹ نے حکومتی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کر دی، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔

پی ٹی آئی نے حکومت کی جانب سے عدالتی حکم کی مخالفت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکام جمعرات تک عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کرتے تو پارٹی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ