آبنائے ہرمز میں روزانہ ایک کروڑ بیرل تیل خفیہ کوریڈور سے ٹرانسپورٹ ہونے کا انکشاف

news 1787243392 7136


(ویب ڈیسک) آبنائے ہرمز میں سخت کشیدگی کے دوران ایک خفیہ شپنگ کوریڈور کا انکشاف ہوا ہے جس سے روزانہ  ایک کروڑ بیرل تیل خلیج فارس سے باہر بحیرہ عرب میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کی نیوز ویب سائیٹ ایکسئیس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی  فوج نے آبنائے ہرمز کے راستے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کے لیے خاموشی سے ایک شپنگ کوریڈور  قائم کر لیا ہے۔

ایکسئیس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسے  امریکی حکام نے بتایا کہ یہ آپریشن ایک نمایاں کامیابی ہے۔

نیوز ویب سائٹ کی اس غیر معمولی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی ہفتوں سے جاری اس خفیہ آپریشن کے تحت ہر شب عمان کے ساحل کے ساتھ  ساتھ کے علاقہ میں ایک جنوبی چینل کے ذریعے 15 سے 20 آئل ٹینکر  آبنائے ہرمز میں داخل ہوتے ہیں یا اس سے باہر بحیرہ عرب میں نکلتے ہیں۔ 

امریکی حکام نے بتایا کہ اس وقت روزانہ تقریباً ایک کروڑ  بیرل تیل، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا لگ بھگ نصف ہے، آبنائے سے بحفاظت نکال کر عالمی توانائی مارکیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ پیش رفت محض آئل ٹینکرز کو حفاظتی حصار میں آبنائے ہرمز  سے باہر نکالنے تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکی فوج خالی ٹینکرز کو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے، خطے کے ممالک سے تیل بھرنے اور پھر بحفاظت باہر نکلنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔

معاملے سے براہ راست آگاہ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ’ہم گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کی جنوبی لین کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب اس میں رکاوٹ ضرور بن سکتے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کا کنٹرول ان کے پاس نہیں بلکہ ہمارے پاس ہے‘۔

ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرمز آپریشن کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں آرمی ہیڈکوارٹرز سے کام کر رہی ہے اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ 

ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر جہازوں کی فہرستیں تیار کرتی ہے اور انہیں ایک مخصوص شیڈول کے تحت رات کے وقت بڑے قافلوں میں گزارا جاتا ہے، اس دوران امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

news 1787243351 3570

حکام نے بتایا کہ یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط اس فوجی مہم کے باعث ممکن ہوا جس نے ایران کے ریڈار اور سمندری نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ 

ویب سائٹ کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایران کی جنوبی چینل میں بحری ٹریفک کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے اور ایرانی فورسز جہازوں کے متوقع راستوں کی جانب محض اندازے سے ڈرونز اور کروز میزائل داغ رہی ہیں، کچھ بحری جہاز ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں، لیکن زیادہ تر حملوں کو امریکی فوج نے ناکام بنا دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  بانی پی ٹی آئی کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں 





Source link

متعلقہ پوسٹ