نئی دہلی: پرچہ لیک کے خلاف 37 روز سے جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے جنتر منتر احتجاج کا اختتام ہو گیا ہے۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ تین ادوار کے مذاکرات کے بعد ان کے باقی اہم مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔
نئی دہلی میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے ایک پانچ نکاتی چارٹر پر اتفاق کیا ہے، جس کی بنیاد پر آگے اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومتی وفد کی قیادت کرنے والے بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور متفقہ نکات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سی جے پی کے مطابق حکومت نے ان کے دو بڑے مطالبات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے کا فیصلہ شامل ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق احتجاج سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ دھرنا ختم کیا جا رہا ہے، لیکن امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی، اور وہ حکومتی وعدوں پر عمل درآمد پر بھی نظر رکھیں گے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ NEET کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اس دوران جنتر منتر سمیت کئی مقامات پر بڑے مظاہرے ہوئے، متعدد افراد زخمی ہوئے، پولیس کارروائیاں ہوئیں اور معاملہ قومی سیاست کا اہم موضوع بن گیا۔ بعد ازاں حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان کئی ادوار کی بات چیت کے بعد تعطل ختم ہوا اور بالآخر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

