تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک) — سابق اسرائیلی وزیرِ انصاف ڈینیل فریڈمین نے اسرائیلی اخبار ”معاریو” میں لکھا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو موقع دیا کہ وہ نیتن یاہو اور پورے اسرائیل کو ذلیل کریں۔
فریڈمین نے کہا کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے فوراً بعد عالمی رائے عامہ حماس کے خلاف تھی، لیکن جنگ کے طول پکڑنے اور غزہ کی مسلسل تباہی نے یہ بیانیہ پلٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ ”تباہ حال غزہ، مردہ اور زخمی بچے، اور خیموں میں زندگی گزارتے بے گھر افراد” کی تصاویر دیکھ رہے ہیں، جس نے دوست اور اتحادی ممالک کو بھی اسرائیل کے خلاف کر دیا۔
واشنگٹن سے تعلقات کے حوالے سے فریڈمین نے انکشاف کیا کہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں اسرائیل نے قطر میں امریکی حمایت یافتہ مذاکرات میں شریک حماس کے سینئر لیڈروں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی، جس پر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے قطری قیادت سے باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ فریڈمین نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکی فریم ورک معاہدے میں بھی اسرائیلی مفادات کو نظرانداز کیا گیا اور ”ہم ایک ایسی بین الاقوامی کشمکش میں قابلِ تجارت شے بن گئے جس پر ہمارا کوئی اثر نہیں۔”
تاہم انہوں نے نیتن یاہو پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا کہ انہوں نے ذاتی سیاسی بقا کے لیے غزہ جنگ کو طول دیا، جو قومی مفادات کے ساتھ سنگین غداری ہے۔ فریڈمین نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند وزراء اتمار بن گویر اور بیزالل اسموٹریچ کے بیانات اور یہودی بستیوں کی توسیع کی پالیسی اسرائیل کی سلامتی اور بین الاقوامی حیثیت کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے۔
فریڈمین نے اپنے مضمون کا

