واشنگٹن — امریکہ نے شمال مغربی شام میں واقع ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیل کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق منگل کو ہوائی اڈے پر آٹھ حملے ہوئے جن سے مالی نقصان پہنچا مگر جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ حملے ترک فوجیوں کی وہاں تعیناتی روکنے کے لیے کیے گئے۔
ترکی میں امریکہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے ایکس پر لکھا کہ واشنگٹن ان حملوں پر ناراض ہے اور یہ خطے میں غیر ضروری کشیدگی پیدا کریں گے، جس سے استحکام متاثر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع نے جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور وہ کشیدگی کم کرنے کے حق میں رہے ہیں۔ باراک نے کہا کہ امریکہ ماضی میں سفارتی کوششوں کی میزبانی کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔
ترکی کے شامی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ شامی فوج کی مدد فراہم کر رہا ہے، جبکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے — دونوں خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور مصر نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔ شامی وزارتِ خارجہ نے حملے کو "بلا جواز” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
نوٹ: حالیہ برسوں میں اسرائیل نے شام میں متعدد حملے کیے ہیں جن میں شامی فوجی ساز و سامان اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے؛ پچھلے سال دمشق کے جنوبی علاقے پر ڈرون حملے میں آٹھ شامی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

