خیبر پختونخوا میں پشتو ڈراموں کی معروف اداکارہ شازمہ حلیم نے کم عمری میں ٹی وی سکرین سے شروع ہونے والے اپنے 38 سالہ فنی سفر میں کئی کردار نبھائے، سماجی مخالفت کا سامنا کیا اور اپنی شناخت بنائی، اب انہیں صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والی شازمہ حلیم کہتی ہیں کہ 1986 میں آٹھویں جماعت کی طالبہ کی حیثیت سے ڈراموں میں قدم رکھنا آسان نہیں تھا، تاہم خاندان کی معاشی ضروریات پوری کرنے اور والد کا سہارا بننے کے لیے انہوں نے اداکاری کا انتخاب کیا، جو بعد میں ان کے فنی سفر کی بنیاد بنا۔
ان کا کہنا ہے کہ صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزدگی ان کے لیے صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ان کے چاہنے والوں کی محبت اور 38 سالہ فنی سفر کا اعتراف ہے۔
شازمہ حلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’آٹھویں جماعت میں تھی کہ پہلی بار اپنے ماموں کی سرپرستی میں ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئی اور تب سے اب تک یہ سفر جاری ہے لیکن یقین اب بھی نہیں آ رہا کہ میرا نام صدارتی ایوارڈ کے لیے منتخب ہوگیا ہے۔ ‘
پشتو ڈراموں میں شازمہ حلیم کے نام سے شاید بہت کم لوگ ہوں گے، جو ناآشنا ہوں گے کیونکہ انہوں نے پرانے زمانے میں پشتو کے معروف ڈراموں میں کردار ادا کیے ہیں جن میں ’آسمان، سمندر، بازار‘ اور اس جیسے درجنوں ڈرامے شامل ہیں۔
شازمہ حلیم نے 38 سال اس فن کے شعبے میں گزارے اور ان کے مطابق ان کے کام کو ابھی سراہا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں ملنے والا صدارتی ایوارڈ دراصل ان کے چاہنے والوں کے لیے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی چھ مرتبہ میرا نام اس ایوارڈ کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن اس مرتبہ خاص بات یہ تھی کہ میرا نام پی ٹی وی والوں نے خود بھیجا تھا اور بس ایوارڈ کے لیے نامزدگی ہوگئی جس پر بہت زیادہ خوش ہوں۔
فن کے شعبے میں کیسے آئیں؟
شازمہ نے بتایا کہ اداکاری ان کا شوق نہیں تھا بلکہ وہ وکیل یا ایئر ہوسٹس بننا چاہتی تھیں لیکن حالات ایسے بنے کہ اس شعبے میں قدم رکھا۔
انہوں نے بتایا: ’ہم سات بہنیں تھیں (دو بھائی بعد میں پیدا ہوئے تھے) اور والد کو سپورٹ کرنے والا بھائی نہیں تھا تو میں نے والد کو کندھا دینے کے لیے آٹھویں جماعت میں اس فن میں آنے کا فیصلہ کیا۔‘
ابتدا میں شازمہ حلیم نے بتایا کہ والد کو جب اس حوالے سے بتایا تو وہ کچھ ہچکچا گئے تھے اور یہی کہتے تھے کہ ’لوگ کیا کہیں گے لیکن میں نے ان کو بتایا کہ اگر آپ کی سپورٹ ہے، تو کچھ نہیں ہوگا اور بس میں اس شعبے میں آ گئی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شازمہ حلیم کے مطابق ان کے زمانے میں آٹھویں جماعت کا بورڈ کا امتحان ہوا کرتا تھا، جس کے بعد تین مہینے کی چھٹیوں میں انہوں نے ریڈیو پاکستان سینٹر، پشاور میں ماموں کے بیٹے کی مدد سے کام شروع کیا اور تب سے اس سفر کا آغاز ہوگیا۔ اس وقت والد کو سہارا دینے کے لیے اس سے تھوڑی بہت کمائی بھی آتی تھی۔
شازمہ حلیم نے پی ٹی وی، خیبر ٹی وی، ریڈیو پاکستان کے درجنوں پشتو اور اردو ڈراموں میں اہم کردار ادا کیے ہیں اور اب تک یہ سفر جاری ہے. آج کل وہ پی ٹی وی اور خیبر نیوز پر پروگرامز کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔
شازمہ حلیم نے بتایا: ’رشتہ داروں کی جانب سے اور گاؤں میں اس وقت چیلنجز ضرور تھے کیونکہ 1986 میں کسی ٹی وی ڈرامے میں کام کرنا ایک چیلنج والا کام تھا لیکن بعد میں اپنے ہی لوگ سراہتے تھے۔ میں دوسروں کے لیے ایک رول ماڈل بن گئی تھی۔‘
اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت گھر کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں تھی اور گھر میں ٹی وی بھی نہیں تھا تو پڑوس کے گھر میں جا کر میں ٹی وی دیکھنے جاتی تھی۔
صدارتی ایوارڈ کے علاوہ شازمہ حلیم کے مطابق انہیں پی ٹی وی پشاور مرکز کی جانب سے چھ مرتبہ بہترین اداکارہ کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
پرانے وقت اور اب کے ڈراموں میں کیا فرق ہے؟ اس حوالے سے شازمہ کا کہنا تھا کہ پرانے زمانے میں جو ڈرامے لکھے جاتے تھے، اس میں ہمارے معاشرے کی عکاسی کی جاتی تھی لیکن اب کے ڈراموں میں گلیمر اور بناوٹ بہت زیادہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا: ’آج کل کے ڈراموں میں ایسے ایسے گھر، گاڑیاں، بنگلے، بڑے بڑے ریسٹورنٹس اور عیش و عشرت کی زندگی دکھائی جاتی ہے جو ایک متوسط طبقے کی زندگی کی عکاس نہیں ہے۔‘

