امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر کے اس پر دباؤ ڈالنا براہِ راست فوجی حملوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق تہران اس وقت گہرے معاشی بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث ایرانی قیادت کی اولین ترجیح منجمد اثاثوں تک رسائی اور مالی ریلیف حاصل کرنا بن گئی ہے۔ رپورٹ میں ایک سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران بمباری رکوانا چاہتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ سب سے پہلے پیسہ اور اقتصادی مراعات چاہتا ہے، جو اس کی داخلی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 13 دن تک جاری حملوں کے بعد، ہفتے کے آخر میں امریکی جوابی کارروائی روکنے پر واشنگٹن سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کی درخواست کی، تاہم ایرانی حکام نے اس بیان کو مسترد کر دیا۔ اسی دوران عمان، قطر اور پاکستان سمیت متعدد ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور پابندیوں کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک تجویز میں ایران اور عمان کو آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام میں کردار دینے کی پیشکش شامل ہے، جسے ملاکا اور سنگاپور آبنائے کے انتظامی ماڈل کی طرز پر تشکیل دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران مستقبل میں امریکی حملوں کے خلاف ضمانتیں، منجمد اثاثوں تک رسائی اور پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ ایران کو کسی قسم کا انعام دینے کے بجائے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تہران اپنا باقی ماندہ جوہری مواد جمع کرائے۔ بعض امریکی اہلکاروں نے خفیہ اطلاعات کے حوالے سے کہا کہ ایران میں فوجیوں کو تنخواہ دینے میں مشکلات ہیں اور تیل سے مالا مال ملک میں پیٹرول کی قلت بھی سامنے آ رہی ہے، جس کی وجہ سے تہران معاشی پابندیوں کو فوجی حملوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، باوجود پابندیوں کے، ایران نے سال کے پہلے نصف میں تیل برآمدات سے قابلِ ذکر آمدنی حاصل کی، جس کے باعث بعض تجزیہ کار معاشی جنگ کو ایران کی پالیسی بدلنے کے لیے ناکام حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔

