لندن: نوجوان مقرر یمنیٰ حسن نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک مباحثے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور کے ایک اہم چیلنج پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے "بہترین پروپوزیشن اسپیکر” کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ان کی فتح کے بعد شرکاء کی پرجوش تالیوں کے درمیان آکسفورڈ کے لارڈ میئر نے ذاتی طور پر انہیں یہ ایوارڈ پیش کیا۔
یمنیٰ حسن نے جنریٹو اے آئی کو اصل تخلیقی کام سونپنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف دلائل پیش کیے۔ انہوں نے تخلیقی صلاحیت کو ایک ایسے پٹھے (muscle) سے تشبیہ دی جو ورزش اور فکری محنت کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے، اور خبردار کیا کہ خودکار ٹولز پر حد سے زیادہ انحصار ذہنی صلاحیت کے کمزور پڑنے (cognitive atrophy) کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمول کی خودکاریت بالآخر روزمرہ کے کام آزادانہ طور پر انجام دینے کی صلاحیت ختم کر سکتی ہے۔ تخلیقی صلاحیت کو "تہذیب کی دھڑکن” قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ انسانی ذہانت کا تحفظ خود انسانیت کے تحفظ کے مترادف ہے۔
یہ فتح یمنیٰ حسن کے اعزازات کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ ہے۔ وہ قبل ازیں اقوامِ متحدہ کا چینج میکر ایوارڈ 2026ء، فیشن فیکٹر دبئی 2026ء میں بہترین جین زی پوڈکاسٹ ایوارڈ، انٹرپرینیور مڈل ایسٹ کی جانب سے 2025ء کا بہترین جین زی ایوارڈ، انڈیا انٹرنیشنل انفلوئنسر ایوارڈز 2025ء میں سال کی بہترین جین زی مصنفہ، اور گلف اچیورز ایوارڈز 2025ء میں بہترین بین الاقوامی مصنفہ کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے کام کو انٹرپرینیور مڈل ایسٹ، خلیج ٹائمز، گلف نیوز اور پیپر میگزین میں بھی کوریج مل چکی ہے۔
انہوں نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا کہ اے آئی سے تیار کردہ شارٹ کٹس کے بجائے علم میں سرمایہ کاری کریں، نئے مشاغل اپنائیں اور حقیقی مہارت حاصل کریں، اور جین زی کو ترغیب دی کہ جدید ٹولز کے استعمال میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تجسس پر مبنی اور اصل سوچ سے جڑے رہیں۔

