صدائے ایران: تہران ٹائمز کی صحافی سحر دادجو کا یہ مضمون جنگ کی خبروں کے پیچھے چھپے انسانی درد کو سامنے لاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ مسلسل حملوں کے درمیان صحافی ہونا کیسا تجربہ ہے اور کس طرح ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے پیچھے ہر شخص کسی خاندان کی پوری دنیا ہوتا ہے۔ مضمون میں ایک خاندان کی کہانی کے توسط سے جنگ کی ہولناکی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
وہ پل جہاں حسن چترزرین نے اپنے دو بھائیوں-32 سالہ ہمایوں اور 11 سالہ مازیار-کو کھو دیا۔ (تصویر: سحر دادجو)
صبح کے تقریباً تین بج رہے ہیں اور میں پھر سے جاگ رہی ہوں؛ جب سے حملوں کا یہ دور شروع ہوا ہے، اکثر راتوں میں میرا یہی حال رہا ہے۔ جنگ کے دوران نیند نہ آنے کی بے چینی بالکل الگ ہوتی ہے،یہ بے چینی سے کہیں زیادہ چوکسی کی کیفیت ہوتی ہے۔ میرا فون میرے پاس رکھا ہے۔ اس کی اسکرین کی روشنی مدھم ہے، لیکن وہ مکمل طور پر بند نہیں ہے، کیونکہ رات کے دو سے چھ بجے کے درمیان جنوبی ایران میں حملوں کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔
میں نے جاگتے رہنے کی عادت بنا لی ہے، بلکہ یہ ایک طرح کی مجبوری بن گئی ہے، تاکہ حملہ ہوتے ہی مجھے اس کی خبر مل جائے، نہ کہ خبر سن کر میری نیند کھلے۔ میرا خیال تھا کہ صحافیوں کو جن واقعات کی وہ رپورٹنگ کرتے ہیں، ان سے کچھ فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔ لیکن اب مجھے پتہ نہیں کہ ایسا کیسے کیا جائے، خصوصی طور پر اس مہینے میں، جب ملک کا جنوبی حصہ مسلسل میزائل حملوں کی زد میں ہے اور ہم باقی لوگ دوسرے شہروں میں سکون سے سونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں رات کو اپنی کھڑکی کھلی رکھتی ہوں۔ یہ سننے میں عجیب لگ سکتا ہے، کیونکہ کھڑکی سے آنے والی آوازیں کبھی بھی ان حقیقی آوازوں جیسی نہیں ہو سکتیں جو ہرمزگان، خوزستان یا بوشہر کے لوگ حقیقت میں سن رہے ہیں۔ پھر بھی، میں اسے کھلا رکھتی ہوں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں اس واقعہ سے آنکھیں نہیں چرانا چاہتی جسے دوسرے خاندان اپنی حقیقی زندگی میں جھیل رہے ہیں- یہ ان لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک فضول طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن میرے پاس یہی ایک طریقہ ہے۔
صحافت کے اس کام میں ایک خاص طرح کا احساس جرم ہوتا ہے، جس کے بارے میں کوئی پہلے سے نہیں بتاتا۔ آپ پورا دن لوگوں کے نام اور اعداد و شمار جمع کرنے میں گزار دیتے ہیں-جیسے گاؤں کی سڑک پر مارا گیا ایندھن ٹینکر کا ڈرائیور، اسپتال سے لوٹتے ہوئے کار میں پھنسا چار افراد کا خاندان، یا حاجی آباد کا ایک انوائرنمنٹل وارڈن جس نے اپنے گھر پر ہوئے حملے میں اپنے تین رشتہ داروں کو کھو دیا- اور پھر رات کو آپ اپنے پُرسکون اپارٹمنٹ میں واپس آ جاتے ہیں، جبکہ جن لوگوں کے نام آپ نے لکھے تھے، وہ ایسے گھروں میں لوٹتے ہیں جہاں ان کے خاندان کا کوئی فرد اب ہمیشہ کے لیے واپس نہ آنے کے لیے جا چکا ہے۔
ایران کی وزارت صحت نے بتایا کہ صرف 6 جولائی 2026 کے بعد سے ہوئے حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہو ئے ہیں۔ اس وسیع جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ ماہ کے بچوں سے لے کر 80 اور 90 سال کی عمر کے بزرگ تک شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں نے صبح چار بجے یہ جملہ پڑھا اور اس کے بعد کافی دیر تک اپنا لیپ ٹاپ بند کرکے بیٹھی رہی، کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے بعد کیا لکھوں۔
مزیار اور ہمایوں
تئیس جولائی کو میرے ایک ساتھی نے تہران سے سینکڑوں کلومیٹر جنوب میں واقع صوبہ ہرمزگان کے قصبے نیمہ کار میں حسن چترزرین نامی ایک نوجوان سے رابطہ کیا۔ اس نے اس رات کے بارے میں بتایا جب حسن نے اپنے دو بھائیوں، 32 سالہ ہمایوں اور 11 سالہ مزیار، کو ایک ایسے پل پر کھو دیا تھا جو اب پہلےویسا نظر نہیں آتا جیسا پہلے نظر آتا تھا ۔
بموں کے حملوں نے پل کی شکل بدل دی ہے۔ حسن کے پاس اپنے بھائیوں کی موت سے چند لمحے پہلے کی ایک ریکارڈنگ تھی۔ میں نے وہ رات اور اس کے بعد کی کئی راتیں اس ریکارڈنگ اور اس کے ٹرانسکرپٹ کے ساتھ گزاریں؛ میں نے اس کے الفاظ کا ایک ایک کرکے ترجمہ کیا اور کوشش کی کہ زبان بدلنے کے باوجود ان الفاظ کے پیچھے چھپی کیفیت اور اصل احساس کہیں کھو نہ جائے۔میں نے کبھی اُس کی آواز براہ راست نہیں سنی۔ میرے پاس صرف اُس کے الفاظ تھے، جو دو بار دہرائے گئے تھے—ایک بار اُس نے کہے تھے اور دوسری بار میں نے—اور ایک عجیب سی ذمہ داری تھی کہ اس فاصلے کے درمیان کچھ بھی ضائع نہ ہو جائے۔
کانوں میں گونجتی ہے ہمایوں کی آواز –ماں، تم کہاں ہو؟
اس واقعہ کے بارے میں ایک بات میرے ذہن میں نقش ہو گئی ہے۔ پہلے دھماکے کے چند ہی سیکنڈ بعد ہمایوں نے اپنی ماں کو جو آخری فون کال کی، اس میں صرف چار لفظ تھے—’ماں، تم کہاں ہو؟‘—اور پھر لائن کٹ گئی۔ دراصل یہ کوئی سوال نہیں تھا۔ یہ ایک فطری ردعمل تھا، وہی ردعمل جو ہم میں سے کسی کو بھی اُس شخص کی جانب کھینچتا ہے جس نے ہمیشہ ہماری ہر بات کا جواب دیا ہو۔ اب وہ کبھی کوئی جواب نہیں مانگنے والا ہے۔
آج کل اکثر راتوں میں، جب میں جاگ رہی ہوتی ہوں تو ایسا نہیں ہے کہ میں کسی کام میں مصروف ہوں۔ میں بس جاگ رہی ہوتی ہوں، اور اکثر سوچتی رہتی ہوں کہ کوئی جگہ آخر کیسے محض ایک ہدف بن جاتی ہے-جیسے ایک پل، جو صرف گھر جانے کا راستہ تھا؛ یا کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ایک پلانٹ، جس پر بم گرنے سے دس ہزار لوگ پانی کے لیے ترسیں گے یا ترس رہے ہیں؛ یا وائلڈ لائٖ کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ایک وارڈن کی چوکی، جو ایک خاندان اور اس کے آس پاس کے علاقے سمیت ملبے میں تبدیل ہو گئی۔
یہ باتیں ملٹری بریفنگ کی زبان میں فٹ نہیں بیٹھتیں؛ وہاں انفراسٹرکچر اور صلاحیت کی بات ہوتی ہے، لیکن کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ گیارہ سال کا وہ بچہ-جو بڑا ہو کر پولیس افسر بننا چاہتا تھا کیونکہ ’پولیس لوگوں کی حفاظت کرتی ہے‘-اب اس خواب کو پورا کرنے کے لیے زندہ کیوں نہیں ہے۔
تہران میں بیٹھے بیٹھے میں کسی میزائل کو روک نہیں سکتی۔ خمَیر کاؤنٹی میں میں کچھ بھی دوبارہ تعمیر نہیں کر سکتی۔ لیکن صبح کے تین بجے، جب میری اسکرین پر بات چیت کا ٹرانسکرپٹ کھلا ہو ، تو میں صرف اتنا کر سکتی ہوں کہ کسی نام کو نیوز کی سرخیوں سے غائب ہونے سے پہلے محض ایک نمبر بننے سے روک لوں۔ یہاں سے جنوب میں کہیں، ایک ماں ایسے گھر میں جاگ رہی ہے جہاں سے اُس کے دو بیٹے غائب ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس حقیقت کے ساتھ کیا کروں، سوائے اس کے کہ جاگتی رہوں، اسے لکھوں اور اسے پڑھنے والے ہر شخص سے-چاہے وہ کہیں بھی ہو-یہ یاد رکھنے کو کہوں کہ یہ لوگ کبھی صرف نمبر نہیں تھے۔ وہ کسی کی پوری دنیا تھے۔
(ذیل میں سحر دادجو کے ساتھی صحافی اور حسن چترزرین کی بات چیت کا ایک حصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس بات چیت کا ٹرانسکرپٹ اور عربی سے انگریزی میں ترجمہ سحر دادجو نے کیا تھ)
جو ہوا، وہ ہونا نہیں تھا۔ جو ہوا، وہ کسی کے ساتھ نہ ہو — حسن چترزرین
حسن نے بتایا کہ ان کا خاندان ایک بڑا خاندان ہے۔ ماں باپ، چھ بھائی اور دو بہنیں۔ اب ان میں سے دونہیں ہیں۔ والد نے ساری زندگی کڑی محنت کی۔ وہ ایک سیمنٹ فیکٹری میں ڈرائیور تھے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ مزیار خاندان میں سب سے چھوٹا تھا۔ وہ ابھی چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اور پانچویں میں جانے والا تھا۔ ہمایوں سب سے بڑا تھا۔ اس نے شادی نہیں کی تھی۔ اس نے گھر کی ذمہ داریوں ہی کو اپنی زندگی بنا لیا تھا۔
سترہ جولائی 2026 کی اس رات ہم لوگ بھائی کے گھر میں جمع تھے۔ بھائی کا گھر ہمارے گھر کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ اچانک ایک خوفناک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواریں لرز اٹھیں۔ چند ہی لمحوں میں پورے قصبے کی بجلی چلی گئی۔ ہم سب گہرے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
اسی وقت میری ماں کے فون پر ہمایوں کی کال آئی۔ ماں نے فوراً فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے وہ بہ مشکل اتنا ہی کہہ پایا،’ماں، تم کہاں ہو؟‘اور فون کٹ گیا۔
اس کے بعد ہم لوگ مسلسل اسے فون کرتے رہے، لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
ہمارے خاندان کے سارے لوگ بہت بے چین اور فکرمند تھے۔ ہم نے آپس میں پوچھا کہ ہمایوں کہاں گیا تھا۔ ماں نے بتایا کہ چھوٹے بھائی مزیار کی ضد پر ہمایوں اسے قریب کے ایک آبشار پر لے گیا تھا، جس کا پانی قدرتی طور پر بعض بیماریوں کے علاج کے لیے بھی مفیدسمجھا جاتا تھا۔ ہم لوگ کسی ناخوشگوار واقعہ کے خدشے سے بھرے ہوئے تھے، لیکن یہ سوچنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ برا ہو گیا ہوگا۔ آخر کچھ دیر بعد میں اور میرا چچازاد بھائی گھر سے نکلے اور اس سمت گئے جدھر دھماکہ ہوا تھا۔

اس طرف دور سے ہی دھواں اور آسمان تک اٹھتے ہوئے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے باوجود ہم یہی سوچ رہے تھے کہ ہمارے بھائی خیریت سے ہوں گے۔ شاید دھماکے سے فون کی لائن خراب ہو گئی ہوں گی، اسی لیے ان کا فون نہیں مل رہا ہوگا۔ ہم اس پل کے قریب پہنچے جہاں سے شعلے اٹھ رہے تھے۔ پل منہدم ہو چکا تھا۔ وہاں کچھ لوگ جمع ہونے لگے تھے۔ شاید وہ آس پاس کے رہنے والے تھے یا ان لوگوں میں سے تھے جو وہاں سے گزر رہے تھے اور بچ گئے تھے۔
میں اپنے ساتھ ایک بڑی ٹارچ لے کر گیا تھا۔ میں نے ٹارچ کی روشنی ڈالی تو مجھے پل کے کنارے پر اپنے بھائی کی گاڑی دکھائی دی۔ وہ پل کے بالکل کنارے سے ایک یا دو میٹر اندر تھی۔ شاید اگر ایک لمحہ اور گزر جاتا تو وہ پل پار کر چکے ہوتے۔ گاڑی دیکھنے کے بعد بھی میں یہ امید چھوڑنا نہیں چاہتا تھا کہ میرے دونوں بھائی زندہ ہوں گے، حالانکہ گاڑی کی حالت بتا رہی تھی کہ میری یہ امید کسی معجزے کے رونما ہونے جیسی تھی۔ گاڑی کو دیکھتے ہی میں چیخا،’وہاں اس گاڑی میں میرے بھائی ہیں۔ مدد کرو، انہیں بچا لو!‘
آس پاس کے جو لوگ بھی جمع ہوئے تھے، سب قریب آ گئے۔ لیکن گاڑی تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ اس وقت تک کوئی امدادی ٹیم بھی نہیں پہنچی تھی۔ پیچھے ایک اور گاڑی دھو دھو کر جل رہی تھی۔ اس میں موجود تمام لوگ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد میں گاؤں میں ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ چار افراد-شوہر، بیوی، ان کی بیٹی اور بیوی کی والدہ-ایک ہی خاندان سے تھے۔ وہ قریبی شہر بندر عباس گئے ہوئے تھے، جہاں ان کے خاندان کا ایک اور فرد اسپتال میں داخل تھا۔ واپسی کے دوران وہ سب ہلاک ہو گئے۔
پل
کچھ دیر بعد بڑی مشکل سے ہم اپنے بھائیوں کے قریب پہنچ پائے اور ان کی لاشیں باہر نکال سکے۔ مجھے یاد ہے، میں روتا جا رہا تھا اور چھوٹے بھائی مزیار کے چہرے پر آہستہ آہستہ تھپکیاں دے رہا تھا، اس امید میں کہ وہ آنکھیں کھول دے گا اور کچھ کہے گا۔
بڑا بھائی ہمایوں ہمارے گھر کا ستون تھا؛ ہمیشہ خاندان کی بہتری، خوشی اور حفاظت کے لیے ہمارے سروں پر تنی ہوئی ایک چھت کی مانند۔ اور مزیار ہمارے گھر اور خاندان کی روشنی تھا۔ وہ ہمیشہ مسکراتا اور خوش رہتا تھا۔ کسی نے کبھی اس سے پوچھا تھا کہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہو گے؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ وہ پولیس والا بننا چاہتا ہے۔ پوچھنے والے نے پوچھا، کیوں؟ تو اس نے جواب دیا کہ پولیس والے لوگوں کو بچاتے ہیں، اس لیے وہ پولیس والا بنے گا۔ ایسا تھا مزیار ۔ وہ اس لیے پولیس والا نہیں بننا چاہتا تھا کہ اسے پیسہ، عزت یا طاقت ملے گی، بلکہ اس لیے کہ وہ لوگوں کی حفاظت کر سکے۔
ہمایوں اور مزیار
اس دن صرف ہمارے گھر ہی میں نہیں بلکہ ہمارے گاؤں کے بہت سے گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ ہمارا گاؤں کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا۔ اس پر حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ پھر بھی ہم یہی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو بھی ایسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
(سحر دادجو ایران کے معروف انگریزی روزنامے تہران ٹائمز میں سیاست اور بین الاقوامی امور کی نامہ نگار ہیں۔)
(ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں اور انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)
Related
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں, فکر و نظر

