امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد ہالی ووڈ کی متعدد مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اداکاروں نے جنگ کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع، خاص طور پر ایرانی شہریوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا اور امن کی اپیل کی۔ کئی فنکاروں نے امریکی پالیسیوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا
مارک رفالو (جو ہلک کے کردار کے لیے مشہور ہیں) سب سے زیادہ vocal رہے۔ انہوں نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ "نفسیاتی مریضوں” (psychopaths) کی قیادت میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ ایران پر جوہری حملہ "دیوانگی” (insanity) ہوگی، جس سے لاکھوں معصوم شہری متاثر ہوں گے۔ رفالو نے جared کشنر کے مالی مفادات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں علاقائی جنگ کو مزید پھیلا سکتی ہیں۔
بین اسٹیلر نے وائٹ ہاؤس کی ایک ویڈیو پر شدید ردعمل دی، جس میں ان کی فلم Tropic Thunder کا کلپ جنگ کی پروموشن کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اسٹیلر نے مطالبہ کیا کہ کلپ ہٹایا جائے اور کہا: "War is not a movie” (جنگ کوئی فلم نہیں ہے)۔ ان کی تنقید کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا اور اسے جنگ کی پروپیگنڈا قرار دیا گیا۔
دیگر ہالی ووڈ شخصیات کا ردعمل بھی قابل ذکر ہے:
جین فونڈا نے لاس اینجلس میں احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجیوں اور شہریوں کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
جان کیوسک، روزی اوڈانل، جیک وائٹ اور کیری کون نے بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک نے "Department of War” (جنگ کا محکمہ) کا طنز کیا۔
ڈوا لیپا اور دیگر نے بھی اینٹی وار پیغامات دیے۔
کچھ اداکاروں نے اس تنازع کو غیر ضروری اور سیاسی طور پر متحرک قرار دیا، جبکہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والوں (جیسے جیمز ووڈز اور ڈین کین) نے اسے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ تاہم، تنقید کرنے والوں کی آوازیں زیادہ بلند رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہالی ووڈ میں یہ ردعمل انسانی حقوق اور امن کی آواز ہے، لیکن کچھ ناقدین اسے "سیلیکٹو ایکٹی ویزم” قرار دیتے ہیں۔

