پیرس
یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی-فلسطینی رکن ریما حسن نے اپنے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کو "سیاسی محرکات پر مبنی” قرار دیتے ہوئے حکام پر "عدالتی ہراسانی” کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ "مجھے محض اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
‘فرانس انبووڈ’ (ایل ایف آئی) پارٹی سے تعلق رکھنے والی ۳۳ سالہ سیاستدان کو اس ہفتے کئی گھنٹے حراست میں رکھا گیا اور جمعہ کو دوبارہ پوچھ گچھ کی گئی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ۱۹۷۲ء کے تل ابیب حملے میں ملوث جاپانی کارکن کا حوالہ دے کر "دہشت گردی کی ترغیب” دی۔ وہ ۷ جولائی کو عدالت میں پیش ہوں گی جبکہ مزید الزامات کے تحت ۱۶ ستمبر کی سماعت بھی طے ہے۔
ایل ایف آئی کے کوآرڈینیٹر مینوئل بومپارڈ نے ان کارروائیوں کو "عدالتی ظلم” قرار دیا، تاہم وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیز نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مقدمہ کئی یہودی تنظیموں کی شکایات پر بیانات کی سنگینی کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا "یہاں کوئی ظلم نہیں ہو رہا۔”
واضح رہے کہ حسن شام میں حلب کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں اور ۲۰۲۴ء میں یورپی پارلیمنٹ کی پہلی فرانسیسی نژاد فلسطینی رکن منتخب ہوئیں۔

