مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے کے دوران ایک گھر پر نشان لگاتے ہوئے ملازم۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی تبدیلی کمیٹی نے ریاستوں سے گزشتہ 15 برسوں کے دوران کئی موضوعات پر مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار مانگے ہیں۔ جن میں پیدائش اور گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسکولوں میں داخلے اور جائیدادوں کے لین دین، آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کی رجسٹریشن میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ، مذہبی مقامات – مندر، مسجد، چرچ وغیرہ کی ضلع وار تفصیلات شامل ہیں۔ کانگریس نے اسے صاف طور پر ایک خطرناک ایجنڈا بتایاہے۔
نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی تبدیلی کمیٹی(ایچ ایل سی ڈی سی)نے ریاستوں سے گزشتہ 15 برسوں کے دوران کئی موضوعات سے متعلق مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار مانگے ہیں۔ اس حوالے سے ریاستی حکومتیں تذبذب کا شکار ہیں۔
دی ہندو میں منگل (29 ستمبر) کو شائع ہونے والی سینئر صحافی وجیتا سنگھ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، آئین کا سیکولر ڈھانچہ مذہبی زمروں کے تحت اعداد و شمار جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
کمیٹی نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران پیدائش اور گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسکولوں میں داخلے اور جائیدادوں کے لین دین سے متعلق مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار مانگے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع وار مذہبی مقامات کی جانکاری، آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کی رجسٹریشن میں ہونے والے غیر معمولی اضافے سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔
ایچ ایل سی ڈی سی نے درج فہرست قبائل(ایس ٹی)کی برادریوں میں تبدیلی مذہب سے متعلق انٹلی جنس جائزوں اور کمیشنوں کی رپورٹ و دیگر معلومات کے ساتھ ساتھ اس وقت فعال حراستی مراکزکی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔
دی ہندو کی رپورٹ میں ریاستی حکومتوں کے افسران کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیدائش کی رجسٹریشن (جہاں سرٹیفکیٹ پر نومولود بچے کا مذہب درج ہوتا ہے) اور پکڑے گئے یا ملک بدر کیے گئے بغیر دستاویز والے مہاجرین کی تعداد کے علاوہ، باقی تمام زمروں کا مذہب پر مبنی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئین کا سیکولر ڈھانچہ اس طرح کے مذہب پر مبنی اعداد و شمار جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
رپورٹ کے مطابق، اسی وجہ سے ریاستوں کو کمیٹی کی جانب سے پوچھے گئے 35 سوالوں کے جواب دینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کمیٹی کے ایک سوال میں پوچھا گیا ہے،’ان اضلاع کی معلومات فراہم کریں جہاں اسکولوں میں داخلے کا رجحان تاریخی شرحِ پیدائش سے مطابقت نہیں رکھتا، اور اس کی وجوہات بھی بتائیں۔‘
ایک اور سوال میں ریاستوں سے گزشتہ 15 برسوں میں قائم کیے گئے مذہبی مقامات-مندر، مسجد، چرچ وغیرہ-کی ضلع وار تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس میں یہ معلومات بھی مانگی گئی ہیں کہ ان مقامات کی پہچان کے لیے جی آئی ایس میپنگ یا کسی دوسری ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔
ایچ ایل سی ڈی سی نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران ضلع، مذہب اور سال کی بنیاد پر ووٹر رجسٹریشن کا ڈیٹا بھی مانگا ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کی تفصیلات شامل کرنے کو کہا گیا ہے جن کے پاس ’’پچھلی نسل کے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا خاندانی وراثت سے متعلق ریکارڈ موجود نہیں ہیں‘، ساتھ ہی ان کے حوالے سے سامنے آنے والے رجحانات اور ان کی تعداد کی معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔
ان سوالوں میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران غیر مجاز ہجرت اور آبادکاری کو روکنے کے لیے ریاستی حکومتوں کی جانب سے زمین اور بلدیاتی قوانین میں کیے گئے پالیسی احکامات، انتظامی احکامات یا ترامیم سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔
ایچ ایل سی ڈی سی نے اس بارے میں بھی تجاویز طلب کی ہیں کہ کیا نگرانی کو مضبوط بنانے اور ’غیر معمولی مذہبی آبادیاتی تبدیلی کو پلٹنے‘کے لیے کوئی نیا قانون بنانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل دی وائر نے رپورٹ کیا تھا کہ ایچ ایل سی ڈی سی کو ’غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی وجوہات سے ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں‘کا مطالعہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، لیکن کمیٹی میں کسی ڈیموگرافرکو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اس بات نے نہ صرف کمیٹی کے نتائج کے معیار پر سوال اٹھائے ہیں-جو آگے چل کر پالیسی میں تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتے ہیں-بلکہ مردم شماری کے عمل کو نظرانداز کیے جانے پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں، جبکہ مردم شماری 2027 کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے غیر قانونی ہجرت پر خصوصی توجہ ملک میں ہونے والی دیگر اہم آبادیاتی تبدیلیوں-جیسے شرحِ پیدائش میں گراوٹ اور بزرگ آبادی میں اضافہ-کو نظرانداز کرتی ہے، جو ملک میں اہم آبادیاتی تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس کے بجائے حکومت کی یہ کمیٹی دوسری جانب توجہ مرکوز کر رہی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کا استعمال حکمران جماعت کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے مذہب کے لحاظ سے اعداد و شمار طلب کیے جانے پر کانگریس نے کہا-واضح طور پر خطرناک ایجنڈا
کانگریس نے منگل کو وزارت داخلہ کی قیادت والی آبادیاتی کمیٹی کے معاملے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ کمیٹی کا ’واضح طور پر خطرناک ایجنڈا‘ہے۔
This panel has a patently diabolical agenda and has clearly articulated pre-conceived biases. Its report has already been prepared no doubt. https://t.co/0rBgqajKse
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 29, 2026
کانگریس لیڈرجئے رام رمیش نے ایکس پر دی ہندو کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کا ’واضح طور پر خطرناک ایجنڈا‘ہے اور اس نے اپنے پہلے سے طے شدہ تعصبات کو واضح طور پر سامنے رکھ دیا ہے۔
رمیش نے مزید کہا،’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی رپورٹ پہلے ہی تیار ہو چکی ہے۔‘

