
( ویب ڈیسک ) نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں اغوا کیے گئے بچوں کے والدین نے تقریباً 100 روز گزرنے کے باوجود بچوں کی بازیابی نہ ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری بازیاب کرانے کا مطالبہ کردیا۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بچوں کو 15 مئی کو سامبیسا جنگل کے قریب واقع علاقے موسا میں کلاس رومز سے اغوا کیا گیا تھا۔ مقامی نمائندے کے مطابق تقریباً 45 بچے تاحال لاپتا ہیں۔
اغوا کے واقعے کے بعد 29 جون کو قریبی علاقے لاسا میں بھی 36 طلبہ اور ایک استاد کو اغوا کیا گیا، جو تاحال اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں۔
موسا کے بچوں کے والدین نے جمعرات کو اوبا ٹاؤن میں احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بچوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ایمرجنسی سگنل،امریکی فضائیہ کا اہم طیارہ لاپتہ
مقامی افراد کے مطابق سامبیسا جنگل طویل عرصے سے شدت پسند گروہوں کا مضبوط گڑھ رہا ہے،نائجیریا کی شمال مشرقی ریاستوں میں بوکو حرام اور اس سے منسلک اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس کے حملوں میں گزشتہ برسوں کے دوران کمی آئی ہے، تاہم دونوں گروہ اب بھی شہریوں، اسکولوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔
ایک مغوی بچے کے والد چنڈا بوبا نے کہا کہ انہیں اب تک اپنے بچوں کی کوئی خبر نہیں ملی اور وہ نہیں جانتے کہ بچے کہاں ہیں یا ان کی صحت کیسی ہے۔
دو مغوی بچوں کی والدہ پیس نکولوس نے کہا کہ خاندان ہر روز پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں اور حکومت سے بچوں کو بازیاب کرانے کی اپیل کرتے ہیں۔
موسا کے روایتی سربراہ کے نمائندے اوربیٹ لوان یاکوبو کے مطابق تقریباً 45 بچے اب بھی لاپتا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کو والدین سے جدا کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس واقعے سے پوری کمیونٹی متاثر ہوئی ہے۔

