’کیا میرے بیٹے کی قیمت 15 لاکھ روپے ہے؟‘ زخمی انڈین کیڈٹس کے اہلخانہ انصاف کے منتظر

397894 1281912573


جب پرتھم مہالے نے آخری بار اپنی والدہ سے بات کی تو وہ انڈیا کی سب سے بڑی فوجی اکیڈمی میں اپنی زندگی کے معمول کے بارے میں بتا رہے تھے اور آنے والی انٹر سکواڈرن باکسنگ چیمپیئن شپ میں حصہ لینے کے لیے پُرجوش تھے۔

یہ ان کی والدہ کی اپنے بیٹے سے آخری گفتگو تھی۔ 16 اکتوبر، 2023 کو رات 11 بجے ان کے والدین کو فون پر بتایا گیا کہ پرتھم کے سر پر شدید چوٹ لگی ہے اور فوری آپریشن کرنا پڑا ہے۔

والدین فوراً گھر سے نکلے اور رات بھر 650 کلومیٹر کا سفر کرکے صبح ساڑھے چار بجے ہسپتال پہنچے۔ پرتھم کے والد گورکھ مہالے کے مطابق ڈاکٹروں نے ابتدا میں بتایا کہ ان کا بیٹا ’تشویش ناک حالت میں ہے لیکن آپریشن کامیاب رہا ہے۔‘

وہ 24 گھنٹے انتظار کرتے رہے، تاہم اس کے بعد ایک اور فون آیا۔ ’انہوں نے کہا کہ وہ نہیں رہے۔‘

پرتھم مغربی انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں پلے بڑھے اور فوجی افسر بننا چاہتے تھے۔ یہ ایک باوقار اور اچھی آمدن والا کیریئر تھا جو ان کے خاندان کی زندگی بدل سکتا تھا۔

انہوں نے اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی عبور کر لی تھی، جب انہیں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں داخلہ مل گیا۔ اکیڈمی کا امتحان سال میں دو بار ہوتا ہے، جس میں 10 لاکھ سے زیادہ امیدوار شرکت کرتے ہیں، لیکن ان میں سے نو ہزار سے بھی کم امیدوار منتخب ہوتے ہیں۔

پرتھم کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک ان کی موت کے حالات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملی اور نہ ہی اس انکوائری کی رپورٹ دی گئی جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد تحقیقات ہوں گی۔

تربیت کے دوران موت کے بعد پرتھم کے خاندان کو ماہانہ صرف 14 ہزار انڈین روپے (107 پاؤنڈ) پنشن ملتی ہے، جو انڈیا میں ایک غیر ہنر مند سرکاری ملازم کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔

پرتھم کے والد کے مطابق خاندان کو بتایا گیا تھا کہ این ڈی اے کے کیڈٹ کے لیے 15 لاکھ روپے (11,563 پاؤنڈ) کا انشورنس کور ہے جبکہ پرتھم ایک مرتبہ ملنے والے 12 لاکھ روپے (9,250 پاؤنڈ) کے معاوضے کے بھی اہل تھے۔

مہالے سوال کرتے ہیں ’جس لڑکے نے انڈیا کے سب سے مشکل فوجی امتحانات میں سے ایک پاس کیا، اس کی زندگی کی قیمت صرف 15 لاکھ انڈین روپے کیسے ہوسکتی ہے؟‘

پرتھم کی کہانی ایک بڑے مسئلے کا حصہ ہے، جس میں سینکڑوں نوجوان انڈیا کی اہم فوجی اکیڈمیوں میں داخل ہوتے ہیں لیکن کمیشن یافتہ فوجی افسر بننے سے پہلے ہی تربیت چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

انڈین مسلح افواج کے حاضر سروس اور سابق اہلکاروں کو دوران ملازمت زخمی ہونے اور طبی بورڈ کی جانب سے فوجی خدمات کے لیے نااہل قرار دیے جانے کی صورت میں مالی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جسے ’بورڈڈ آؤٹ‘ کہا جاتا ہے۔

تاہم جو نوجوان ابھی تربیت حاصل کر رہے ہوں اور انہیں باضابطہ طور پر فوجی خدمات کے لیے کمیشن نہ ملا ہو، وہ اسی نوعیت کی سہولیات کے اہل نہیں ہوتے۔

عدالتی کارروائی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1985 سے اب تک انڈیا کی بڑی فوجی اکیڈمیوں سے تقریباً 500  افسر کیڈٹس تربیت کے دوران معذوری کا شکار ہونے کے بعد طبی بنیادوں پر فارغ کیے جا چکے ہیں۔

صرف نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں 2021 سے جولائی 2025 کے درمیان تقریباً 20 کیڈٹس کو طبی بنیادوں پر فارغ کیا گیا۔

انکور چترویدی، جنہیں خود 1996 میں این ڈی اے سے طبی بنیادوں پر فارغ کیا گیا تھا، برسوں سے ان کیڈٹس کے حقوق کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

ان کے مطابق مسئلے کی جڑ بظاہر ایک سادہ معاملے میں ہے: حکومت زخمی کیڈٹس کو دی جانے والی رقم کو کس نام سے پکارتی ہے۔

زخمی کیڈٹس کو ماہانہ رقم ’ایکس گریشیا‘ کے نام سے دی جاتی ہے، جو بنیادی طور پر حکومت کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر دی جانے والی رقم ہے جبکہ سابق فوجی اہلکاروں کو معذوری کی پنشن ملتی ہے۔

چترویدی کہتے ہیں ’ایک کیڈٹ کو معذوری کی پنشن دی جاتی ہے لیکن اسے معذوری کی پنشن نہیں کہا جاتا، اسے ماہانہ ایکس گریشیا کہا جاتا ہے۔ یہ بے معنی نام ہی تمام مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔‘

چترویدی کو اپنی چوٹ آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ وہ جنوری 1993 میں ساڑھے 17 برس کی عمر میں این ڈی اے میں شامل ہوئے تھے۔

تربیت کے چھٹے مرحلے میں باکسنگ کے دوران ایک مکا ان کی کمر میں لگا۔

وہ ایک ایسے نئے اور قد آور نوجوان کے ساتھ باکسنگ کر رہے تھے جس نے اس سے پہلے کبھی باکسنگ نہیں کی تھی۔

چترویدی کے مطابق جب انہوں نے اس نوجوان کی ناک پر ہلکا سا مکا مارا تو وہ پیچھے لڑکھڑایا اور بے ساختہ ایک مکا چلا دیا۔

وہ کہتے ہیں ’میں ہوا میں اچھلا اور چاروں ہاتھ پاؤں پر جا گرا۔ جیسے ہی وہ مکا لگا مجھے معلوم ہو گیا کہ مجھے بہت شدید چوٹ لگی ہے۔‘

لیکن وہ باکسنگ کے کپتان تھے اور فوجیوں کی قیادت کی تربیت لے رہے تھے۔ اس لیے وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ’ہم نے باکسنگ کی مشقیں جاری رکھیں اور اس کے بعد دوڑ بھی لگائی۔‘

تقریباً ایک گھنٹے بعد جب وہ واش روم گئے تو انہیں پیشاب میں خون نظر آیا۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں تقریباً چار ماہ تک مختلف طبی معائنے ہوتے رہے۔ بالآخر ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ مزید فوجی تربیت کے لیے فٹ نہیں۔

فوجی افسر بننے کا خواب ختم ہونے کی خبر ان کے لیے تباہ کن تھی۔ وہ کہتے ہیں ’میں نے زندگی میں فوجی افسر بننے کے علاوہ کبھی کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔ ایسا نہ کر پانا یوں تھا جیسے میری روح ہی مجھ سے چھین لی گئی ہو۔‘

’میں بس بھاگ جانا چاہتا تھا۔ میں آنکھیں نہیں کھولنا چاہتا تھا۔‘ وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی دوبارہ بنائی، کانپور یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور بعد میں ٹاٹا ٹی میں 11 سال کام کیا، پھر کارپوریٹ شعبے میں چلے گئے۔

2003 میں ایک ایسے سابق کیڈٹ سے ملاقات کے بعد، جو طبی بنیادوں پر فارغ کیے جانے کے بعد اپنا سب کچھ کھو چکا تھا، انہوں نے دیگر کیڈٹس کی مدد شروع کردی۔

اب وہ طبی بنیادوں پر فارغ کیے جانے والے کیڈٹس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ لوگ انتہائی قابل ہیں۔ انہیں انتہائی سخت انتخابی عمل کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا۔ وہ ٹوٹ چکے ہیں، انہیں صرف دوبارہ سنبھلنے کی ضرورت ہے۔‘

شُبھم گپتا کے لیے دوسری زندگی یا کیریئر کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ 2011 میں بارہویں جماعت مکمل کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد این ڈی اے میں شامل ہوئے۔ تربیت کے چوتھے مرحلے میں انہوں نے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگائی، جس کے دوران ان کی گردن پر شدید اثر پڑا اور وہ مفلوج ہوگئے۔

دو سال علاج کے بعد انہیں طبی بنیادوں پر فوجی تربیت سے فارغ کردیا گیا۔ ان کی والدہ انوپم گپتا کے مطابق شُبھم اب روزمرہ کے بنیادی کاموں کے لیے بھی مکمل طور پر والدین پر انحصار کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’وہ اپنا کھانا بھی خود نہیں کھا سکتا۔‘ دو سال تک شُبھم کا پونے کے ایک سپائنل انجری سینٹر میں علاج ہوتا رہا۔

بعد میں جب وہ بٹھنڈہ میں اپنے گھر واپس آئے تو خاندان کے مطابق ادویات، فزیوتھراپی اور تیمارداروں کے اخراجات بھی ان کے ذمے آگئے۔

حال ہی میں ایکس سروس مین کنٹری بیوٹری ہیلتھ سکیم کے تحت طبی سہولت ملنے سے پہلے خاندان کے مطابق وہ ہر ماہ تقریباً 40 سے 50 ہزار روپے علاج اور دیکھ بھال پر خرچ کر رہا تھا۔

ان کے والدین دونوں ریٹائرڈ ہیں۔ والدہ کی عمر 60 سال سے زیادہ جبکہ والد کی عمر 65 سال ہے۔

ان کی والدہ پوچھتی ہیں ’ایک ریٹائرڈ والدین آخر کب تک ان کا خرچ اٹھا سکتے ہیں؟‘

وہ کہتی ہیں ’تیماردار بھی مہنگے ہیں اور شُبھم واش روم جانے یا حتیٰ کہ پانی پینے کے لیے بھی خود کچھ نہیں کرسکتے۔‘

خاندان خود کو فوجی ملازمت کا مخالف نہیں سمجھتا۔ ان کا ایک اور بیٹا فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ بہو بھی فوج کا حصہ ہیں۔

انوپم گپتا کہتی ہیں ’ہمارے خاندان کے لوگ فوج کے لیے بہت جذبات رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی پالیسیاں اچھی نہیں۔‘

ان کا مطالبہ خصوصی سلوک نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ ’ہم اپنے بچوں کے لیے باعزت زندگی چاہتے ہیں۔‘

متاثرہ خاندانوں کے مطابق ان کی بنیادی درخواست یہ ہے کہ طبی بنیادوں پر فارغ کیے جانے والے کیڈٹس کو سابق فوجی اہلکاروں جیسا تحفظ دیا جائے، جس میں بہتر مالی معاونت اور روزگار تک رسائی شامل ہو۔

انڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ کیڈٹس کو سابق فوجی اہلکار کا درجہ دینے سے انتظامی اور ساختی مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ وہ تربیت حاصل کرنے والے افراد تھے، خدمات انجام دینے والے افسر نہیں۔

دی انڈپینڈنٹ نے انڈین وزارت دفاع اور محکمہ سابق فوجیوں کی بہبود سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ معاملہ اب انڈیا کی سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے 2025 میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا فوجی تربیت کے دوران معذوری کا شکار ہونے والے نوجوانوں کو مناسب تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے حکومت کو بہتر انشورنس اور معاوضے پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ زخمی کیڈٹس کو دفاع سے متعلق دیگر ملازمتوں میں دوبارہ بحال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت نے بعد ازاں طبی بنیادوں پر فارغ کیے گئے کیڈٹس کو ایکس سروس مین کنٹری بیوٹری ہیلتھ سکیم کے ذریعے تاحیات طبی سہولت فراہم کردی، تاہم ان کے سرکاری درجے، مالی معاونت اور مستقبل کے روزگار کا وسیع تر تنازع اب بھی حل طلب ہے۔

چترویدی کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد اتنی زیادہ نہیں کہ حکومت کے لیے یہ مسئلہ حل کرنا مشکل ہو۔

وہ کہتے ہیں ’متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد تقریباً 500 ہے اور مالی بوجھ اتنا کم ہے کہ وزارت ایک سال میں چائے اور ناشتے پر اس سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ماں کا سوال ’میرے بعد اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘

بھارتی جوشی کے بیٹے کشن کلکرنی جنوری 2019 میں این ڈی اے میں شامل ہوئے تھے۔ 2020 میں تربیت کے چوتھے مرحلے کے دوران انہیں دل کا دورہ پڑا۔

جوشی اس وقت کرناٹک میں تھیں جب انہیں فون پر اطلاع ملی۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دل کا دورہ کیا ہوتا ہے۔‘

کشن کلکرنی کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ ان کی والدہ کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران پونے پہنچیں اور چونکہ ہسپتال میں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے باہر بیٹھی رہیں۔

بعد میں کشن گھر واپس آ گئے۔ اب 26 سال کی عمر میں وہ نہ بول سکتے ہیں، نہ بستر پر کروٹ بدل سکتے ہیں اور نہ بھوک یا پیاس کا اظہار کرسکتے ہیں۔

ان کی والدہ انہیں کھانا کھلاتی اور دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کی دیکھ بھال اور ملازمت کے درمیان توازن برقرار نہ رکھ سکنے کے باعث 30 سال تک سکول کی ہیڈ مسٹریس رہنے کے بعد رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں۔

ان کے مطابق کشن کو بقایاجات اور نظرثانی کے بعد تقریباً 40  ہزار روپے ماہانہ ایکس گریشیا ملتی ہے جبکہ نرسنگ، ڈائپرز، ادویات اور فزیوتھراپی کے اخراجات مسلسل جاری ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے انہیں کھانا کھلانا پڑتا ہے۔ وہ بستر پر کروٹ بھی نہیں بدل سکتے۔ میرے بعد ان کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘

کشن کلکرنی کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ اب بھی نہیں جانتیں کہ انہیں دل کا دورہ کیوں پڑا۔ وہ ایک ایسے صحت مند نوجوان کو یاد کرتی ہیں جو کرکٹ اور کبڈی کھیلتا تھا اور اکیڈمی میں داخلے سے پہلے بالکل صحت مند تھا اور جس نے اپنی تربیت بھی جاری رکھی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’افسر کہتے ہیں کہ مشقیں اتنی مشکل نہیں تھیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔‘

انوپم گپتا کے لیے شُبھم کی معذوری نے ان کی بالغ زندگی کے آغاز کو ایک ایسی ذمہ داری میں بدل دیا ہے جس کی کوئی مدت نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اگر کوئی بیٹا شہید ہوجائے تو والدین روتے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں لیکن آخرکار حقیقت کو قبول کر لیتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں لیکن ان کے والدین ’ساری زندگی ان کے ساتھ نہیں رہیں گے‘ اپنے بیٹے کی چوٹ کے بعد گزرنے والے برسوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے ’اس صورت حال کو کسی بھی طرح قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

مہالے کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ’چاہتا تھا کہ اس کی ٹیم کا ہر فرد جیتے لیکن وہ زندگی سے ہار گیا۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ