امریکہ اور یورپ کا دور ختم! 5 ممالک  تارکینِ وطن کی پہلی پسند بن گئے

news 1787466866 4014



news 1787466866 4014

(ویب ڈیسک )بیرونِ ملک منتقل ہو کر نئی زندگی شروع کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے 2026 کے بہترین ممالک کی فہرست جاری کردی گئی ہے، جس میں کم اخراجات، بہتر معیارِ زندگی، دوستانہ ماحول، روزگار اور آمدنی سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

عالمی ریسرچ پروجیکٹ ’انٹر نیشنز‘ کے سروے میں تارکینِ وطن کی آرا کی بنیاد پر 31 ممالک کو مختلف پیمانوں پر جانچا گیا۔ مجموعی درجہ بندی میں پاناما پہلے، میکسیکو دوسرے، تھائی لینڈ تیسرے، متحدہ عرب امارات چوتھے اور برازیل پانچویں نمبر پر رہا۔

پاناما
پاناما مسلسل تیسرے سال تارکینِ وطن کے لیے بہترین ملک قرار پایا۔ سروے میں 87 فیصد افراد نے یہاں اپنی زندگی سے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ 90 فیصد نے رہائش تلاش کرنے کو آسان قرار دیا۔

ارجنٹینا سے پاناما منتقل ہونے والے ایریل باریونووو کے مطابق یہاں کی پرسکون زندگی اور نسبتاً کم اخراجات نے انہیں متاثر کیا۔ ان کے بقول پاناما میں روزمرہ زندگی تیز رفتار دوڑ کے بجائے سکون، فطرت اور ذاتی وقت کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔

کینیڈا سے پاناما منتقل ہونے والی رضا مطلب پور نے بھی ملک میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، آسان بینکاری اور نسبتاً مناسب یوٹیلٹی اخراجات کو مثبت قرار دیا۔

میکسیکو
مجموعی درجہ بندی میں میکسیکو دوسرے نمبر پر رہا اور نئے ماحول میں گھلنے ملنے کے حوالے سے اسے سب سے بہتر ملک قرار دیا گیا۔ سروے میں 73 فیصد تارکینِ وطن نے کہا کہ مقامی دوست بنانا آسان ہے۔

میکسیکو میں مقیم کرسٹن راکوئیا کے مطابق مضبوط کمیونٹی اور کم اخراجات نے انہیں ملک میں قیام جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق روزمرہ کھانے سے لے کر طبی سہولتوں تک کئی اخراجات امریکا کے مقابلے میں خاصے کم ہیں۔

تاہم میکسیکو کو سکیورٹی کے معاملے میں نسبتاً کم درجہ ملا۔ سروے میں یہ ملک 31 ممالک میں 25 ویں نمبر پر رہا۔

تھائی لینڈ
تھائی لینڈ مجموعی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر رہا اور تارکینِ وطن کی خوشی کے لحاظ سے سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔ سروے میں 86 فیصد افراد نے بیرونِ ملک زندگی سے اطمینان ظاہر کیا جبکہ کم لاگتِ زندگی کے معاملے میں بھی اسے نمایاں مقام ملا۔

برطانیہ سے تھائی لینڈ منتقل ہونے والی بیتھن جینتی پراپھیٹ کے مطابق انہوں نے ابتدا میں صرف ایک سال قیام کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن چند ہی ہفتوں میں انہیں محسوس ہوا کہ وہ مستقل طور پر یہاں رہنا چاہتی ہیں۔

امریکا سے کئی برس قبل تھائی لینڈ منتقل ہونے والے آرون ہنری کے مطابق بینکاک نے جدید ترقی کے باوجود اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھی ہے۔

ان کے مطابق نئے آنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی روایات اور سماجی اصولوں کا احترام کریں، کیونکہ یہی رویہ انہیں معاشرے میں بہتر طور پر گھلنے ملنے میں مدد دیتا ہے۔

متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات بھی تارکینِ وطن کے لیے پسندیدہ مقامات میں شامل رہا اور مجموعی درجہ بندی میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

لندن سے دبئی منتقل ہونے والی نکیتا اوروگنٹی کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تارکینِ وطن کے لیے دوستانہ ماحول اب بھی ایک اہم کشش ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک رہنے والے افراد کے لیے استحکام، سکیورٹی اور حکومتی نظام پر اعتماد خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

رأس الخیمہ میں مقیم برطانوی شہری شیرون مک کیرنان نے بھی یہاں کے نسبتاً پرسکون طرزِ زندگی کو سراہا۔ ان کے مطابق کم ٹریفک اور روزمرہ زندگی کے نسبتاً کم مسائل کی وجہ سے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔

برازیل
برازیل پہلی مرتبہ اس فہرست کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوا اور مجموعی طور پر پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ ملک نے خوشی، دوستانہ ماحول، مقامی لوگوں کے رویے اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں اسکور حاصل کیا۔

بارباڈوس سے ساؤ پاؤلو منتقل ہونے والے کلنٹ میننگ کے مطابق برازیل میں لوگوں کی گرمجوشی نئے آنے والوں کو جلد اپنائیت کا احساس دلاتی ہے۔

ایک اور تارکِ وطن کرس کوہل کے مطابق برازیلی معاشرے میں انہیں اجنبی ہونے کے بجائے اپنے پن کا احساس ملا، جو ان کے لیے ملک میں قیام کی بڑی وجہ بنا۔

 سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک نئی زندگی شروع کرنے والوں کے لیے صرف زیادہ آمدنی ہی فیصلہ کن عنصر نہیں۔ کم لاگتِ زندگی، مقامی لوگوں کا دوستانہ رویہ، رہائش کی آسانی، صحت اور ڈیجیٹل سہولتیں، سکیورٹی اور معاشرے میں گھلنے ملنے کے مواقع بھی ملک کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے پاناما، میکسیکو، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور برازیل 2026 میں تارکینِ وطن کے لیے مقبول ترین مقامات میں شامل ہوئے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ