ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع


امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اور سخت پابندیوں کے اعلان کی توقع ہے، جن کا دائرہ تہران سے کاروبار کرنے والے غیر ملکی بینکوں، شپنگ کمپنیوں اور ایکسچینج ہاؤسز تک پھیل سکتا ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک اور اداروں کو بھی اس اقدام کے نتائج بھگتنا ہوں گے، جبکہ تہران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
بیسنٹ پیر کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق دوپہر ۲؍ بجے پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے اتوار کو فنانشیئل ٹائمز میں شائع اپنے مضمون میں اس منصوبے کو دشمن کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مالی حملہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا آغاز طلوعِ صبح کے ساتھ ہوگا۔ ان کے بقول ایرانی فوج پہلے ہی شدید نقصان اٹھا چکی ہے، اور اب حکومت کی آخری پناہ گاہ وہ ممالک ہیں جو پابندیوں سے بچنے میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔ پابندیوں کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی گر گئیں: امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی تقریباً ۳ء۱؍ فیصد کمی کے بعد ۹۳ء۸۵؍ ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل ۲۴ء۱؍ فیصد کمی کے بعد ۲۲ء۹۳؍ ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اس منصوبے میں سب سے اہم سوال چین کا کردار ہے، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور جنگ کے دوران بعض اوقات ایران کی تقریباً ۹۰؍ فیصد برآمدات چین نے خریدیں۔ ابھی واضح نہیں کہ نئی پابندیاں چین کو بھی نشانہ بنائیں گی یا نہیں، تاہم چینی بینکوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چینی صدر شی جن پنگ کا اگلے ماہ وائٹ ہاؤس کا دورہ متوقع ہے۔
ایران نے امریکی اقدام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ محض معاشی حملہ نہیں بلکہ دیگر آزاد ممالک پر امریکی اختیار مسلط کرنے کی کوشش ہے، جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسے ’’پرانا اسکرپٹ‘‘ قرار دیا۔ سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے خبردار کیا کہ نئی پابندیوں کی صورت میں ایران ’’زلزلہ خیز‘‘ جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آ رہا ہے جب ایران کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ ۱۷؍ جون کو اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت عملاً ناکام ہو چکی ہے، اور ۸؍ سے ۲۴؍ جولائی کے دوران لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔ ۲۰۲۵ء کے آخر تک ایران میں افراطِ زر ۴۸؍ فیصد سے تجاوز کر چکا تھا۔
سفارتی سطح پر کوششیں بھی جاری ہیں: پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کا دورہ کر رہے ہیں، جبکہ مصر امریکہ اور ایران کے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ عزت و وقار کے ساتھ جنگ ختم کرنا اسے طول دینے سے بہتر ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تہران کے اگلے اقدام کا منتظر ہے۔

متعلقہ پوسٹ