پیٹرول مہنگا؛ پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں

180671 hybridcars 1380482870



کراچی:

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا  اضافے کے باعث ملک میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

ملک میں پیٹرول کی قیمتیں 320روپے فی لیٹر سے متجاوز ہونے سے گاڑی چلانے کی لاگت میں نمایاں اضافے کے باعث اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) استعمال کرنے والوں کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

ماہرین اور صنعت سے وابستہ شخصیات کے مطابق اب پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز پاکستانی صارفین کے لیے زیادہ موزوں اور معاشی طور پر فائدہ مند انتخاب بنتے جارہے ہیں۔

چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد کے مطابق موجودہ پیٹرول قیمتوں نے روایتی گاڑیوں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب یہ صرف ماحولیات کا معاملہ نہیں رہا بلکہ براہ راست صارف کے ماہانہ اخراجات کا سوال بن چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق عام پیٹرول پر چلنے والی سی سیگمنٹ SUV، جو اوسطاً 10 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، موجودہ قیمتوں پر تقریباً 32 روپے فی کلومیٹر خرچ کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں روایتی ہائبرڈ گاڑیاں، جو تقریباً 18کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہیں، ان کی لاگت بھی کم ہو کر تقریباً 18روپے فی کلومیٹر رہتی ہے، تاہم وہ اب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تبدیلی پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کے ذریعے آرہی ہے، جو شہری استعمال کے دوران زیادہ تر سفر بجلی پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک جدید پلگ اِن SUV کی بیٹری کو مکمل چارج کرنے پر تقریباً 170 کلومیٹر تک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ اگر بجلی کی اوسط قیمت 50 روپے فی یونٹ لی جائے تو ایک مکمل چارج کی لاگت تقریباً 1700 روپے بنتی ہے، جو فی کلومیٹر تقریباً 10 روپے کے برابر ہے۔

اس طرح ایک پلگ اِن ہائبرڈ SUV کی یومیہ لاگت روایتی پیٹرول گاڑی کے مقابلے میں تقریباً 22 روپے فی کلومیٹر کم ہو سکتی ہے، جو ماہانہ بنیاد پر صارفین کے لیے نمایاں بچت کا باعث بنتی ہے۔

ماہرینِ توانائی کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا سولر انرجی کا رحجان بھی اس تبدیلی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ ملک میں نیٹ میٹرنگ اور گھریلو سولر سسٹمز کی تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے صارفین نہ صرف بجلی کے بل کم کر رہے ہیں بلکہ اپنی گاڑیوں کو بھی کم لاگت پر چلا سکتے ہیں۔

سید آصف احمد کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی توانائی اور ٹرانسپورٹ دونوں تبدیلیاں آپس میں جڑ رہی ہیں۔ جو گھرانے اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف بجلی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی بڑی کمی لا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور REEV گاڑیاں پاکستانی صارفین کے لیے اس لیے بھی موزوں ہیں کیونکہ یہ مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے برعکس چارجنگ انفرا اسٹرکچر پر مکمل انحصار نہیں کرتیں اور طویل سفر کے لیے پیٹرول بیک اپ فراہم کرتی ہیں۔

معاشی ماہرین اس رجحان کو قومی معیشت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کا انحصار درآمدی تیل پر ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ مالی خسارے میں سیکڑوں ارب روپے کا اضافہ کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کی بڑی تعداد کم ایندھن استعمال کرنے والی یا بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف انفرادی سطح پر بچت ہوگی بلکہ ملک کے درآمدی بل پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

موجودہ صورتحال میں واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں SUV استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مستقبل کا انتخاب تبدیل ہورہا ہے، جہاں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مہنگے ایندھن کے دور میں ایک عملی اور معاشی حل کے طور پر سامنے رہی ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ