کیوبا امریکہ سے بات چیت کیلئے تیار مگر کوئی پیشگی شرط قبول نہیں: صدر دیاز کانیل


ہوانا: کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا عمل ’’تعطل‘‘ کا شکار ہے اور مذاکرات کیلئے فی الحال کوئی طے شدہ ایجنڈا موجود نہیں۔ برازیل کے اخبار فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’بات چیت کی خواہش موجود ہے اور ہماری حکومت کے بعض عہدیداروں نے امریکی حکومت سے رابطہ بھی کیا ہے، لیکن ابھی تک پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ کوئی ایجنڈا موجود نہیں ہے۔‘‘
دیاز کانیل نے واضح کیا کہ کیوبا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھولنے کیلئے تیار ہے، تاہم دباؤ اور جبر کے ماحول میں مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’جبر کے تحت کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ہمیں بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ کیوبا کو معاشی طور پر دبانے اور ایسے سماجی دھماکے کو جنم دینے کی کوشش کر رہی ہے جو کیوبا کے انقلاب کے خاتمے کا باعث بنے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ کیوبا کیلئے دستیاب ’’تمام راستے بند‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ملک معاشی تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے، حالانکہ کیوبا کو ایندھن، بجلی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
دیاز کانیل نے حکومتی بیوروکریسی اور اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کے مسائل کا اعتراف کیا، تاہم معاشی بحران کی بنیادی وجہ امریکہ کی ’’اقتصادی ناکہ بندی‘‘ کو قرار دیا۔ فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کے مطابق ان کے صدر بننے کے بعد سے کیوبا کی معیشت میں ۱۵ فیصد سکڑاؤ آیا ہے، جبکہ ملک کو طویل بجلی کی بندش اور ایندھن کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے جون میں منظور کیے گئے ۱۷۶ معاشی اقدامات کا دفاع کیا، جن کے تحت نجی کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے کردار کو وسعت دی گئی ہے، مگر اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ اقدامات کیوبا کو سرمایہ دارانہ نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔
یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا جب ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ دیاز کانیل نے کہا کہ ہوانا اپنی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا، تاہم بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کیلئے بدستور تیار ہے۔

متعلقہ پوسٹ