سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے معروف صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو کو "شیطان کا اوتار” (evil incarnate) قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنا سام دشمنی (antisemitism) کے مترادف نہیں۔
ہنٹر بائیڈن کے ان تبصروں پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ متعدد صارفین نے انہیں یاد دلایا کہ ان کے والد جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے تل ابیب کو مسلسل ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی، جس نے اسرائیل کو غزہ پر جنگ جاری رکھنے میں مدد دی۔
انٹرویو کے دوران گفتگو زیادہ تر ہنٹر بائیڈن کے ذاتی تنازعات — منشیات کی لت اور لیپ ٹاپ اسکینڈل — پر مرکوز رہی، جس کے بعد رخ اسرائیل کی جانب مڑ گیا۔ ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ لیپ ٹاپ تنازع کے وقت اسرائیلی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں یہ دعوے پیش کیے تھے کہ ڈیوائس میں کمسن بچوں سے بدسلوکی کا مواد موجود ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل اور نیتن یاہو پر تنقید اب صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکی دائیں بازو کی "امریکہ فرسٹ” تحریک میں بھی مقبول ہو رہی ہے۔

