امریکی نمائندہ الہان عمر نے منگل کو منیسوٹا کے پانچویں کانگریسی ڈسٹرکٹ کے ڈیموکریٹک پرائمری انتخاب میں زبردست اکثریت سے فتح حاصل کر لی۔ اس جیت کے ساتھ منیاپولس پر مرکوز اس نشست سے پانچویں مدت کیلئے ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر ان کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ۹۵ فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد انہوں نے ۸۰ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق الہان عمر ایک لاکھ ۲۲ ہزار ۶۴۰ ووٹوں کے ساتھ سرِفہرست رہیں، جبکہ ان کی قریب ترین حریف، سابق وفاقی پراسیکیوٹر جولی ترانگ لی کو صرف ۱۰ ہزار ۲۰۱ ووٹ ملے۔ لاٹونیا ٹی۔ ریوز تیسرے نمبر پر رہیں جنہیں ۹۱۳۱ ووٹ ملے۔ ریپبلکن پرائمری میں جان ناگل ۱ء۵۲ فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے دکھائی دیے۔
الہان عمر صومالیہ کے شہر موغادیشو میں پیدا ہوئیں اور خانہ جنگی کے باعث بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ ملک چھوڑ کر کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں چار سال گزارے۔ ۱۹۹۷ء میں منیاپولس منتقل ہونے کے بعد وہ ۲۰۰۰ء میں امریکی شہری بنیں۔ ۲۰۱۶ء میں وہ منیسوٹا ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی پہلی صومالی-امریکی رکن منتخب ہوئیں، اور ۲۰۱۸ء میں رشیدہ طلیب کے ساتھ کانگریس تک پہنچنے والی پہلی دو مسلم خواتین میں شامل ہوئیں۔
۲۰۱۹ء سے کانگریس میں ایک ممتاز ترقی پسند آواز کے طور پر پہچانی جانے والی الہان عمر ہجرت، صحتِ عامہ اور سماجی انصاف کے مسائل پر متحرک رہی ہیں۔ منگل کی فیصلہ کن جیت انہیں ایک تاریخی طور پر ڈیموکریٹک نشست کے عام انتخابات میں دفاع کیلئے مضبوط پوزیشن میں لے آئی ہے۔

