دو الیکشن کمشنروں کی درخواست کے باوجود 2024 سے ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے ہیں جین زی ووٹر: رپورٹ

Youth Congress Gyanesh ECI Protest PTI


دہلی میں انڈین یوتھ کانگریس کے ارکان کا احتجاجی مظاہرہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ووٹر لسٹ کے سالانہ ریویو کا عمل، جس کے ذریعے 18 سال کے اہل نوجوانوں کے نام فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں، میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اخبار نے بتایا ہے کہ سال 2026-27 کے لیے اس عمل کا اعلان مئی-جون میں ہونا تھا، مگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کے درمیان اتفاق رائے نہ بن پانے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔

نئی دہلی: ووٹر لسٹ کے سالانہ جائزے (ریویو) کا عمل، جس کے ذریعے 18 سال کے نوجوانوں کے نام فہرست میں شامل کیے جاتے ہیں، میں  تاخیر ہو رہی  ہے۔

اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سال 2026-27 کے لیے اس کا اعلان مئی-جون میں ہونا تھا، لیکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دو الیکشن کمشنروں کے درمیان اتفاق رائے نہ بن پانے کے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک دن قبل ہی انڈین ایکسپریس کی ایک پڑتال میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان کم از کم 14 بار ان فیصلوں پر باضابطہ طور پر اعتراض کیا تھا، جو ان کی جانکاری یا رضامندی کے بغیر لیے گئے تھے۔

اکنامک ٹائمز کے مطابق، عام طور پر جنوری میں جاری ہونے والی فائنل ووٹر لسٹ میں اس بار بہت زیادہ تاخیر ہو رہی ہے اور ہزاروں جین زی نوجوانوں کے نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ جنوری 2024 سے ہی ’سمری اسپیشل ریویژن‘(ایس ایس آر)رکا ہوا ہے، کیونکہ 2025 میں بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس ایس آر)کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق، اس کی وجہ سے ریاستوں میں ہر سال ہونے والے ایس ایس آر کی کئی دہائیوں پرانی روایت ٹوٹ گئی، وہیں دونوں کمشنروں، سندھو اور جوشی، نے اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی پرزور وکالت اور مطالبہ کیا تھا۔

ایس ایس آر پر کمشنروں کا مؤقف واضح تھا

اکنامک ٹائمز کی رپورٹ بتاتی ہے کہ  اس بارے میں  دونوں کمشنروں کانطریہ  بالکل واضح تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر مکمل ہونے کے بعد بھی سالانہ ایس ایس آر کا عمل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ایس ایس آر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اپنے ووٹر لسٹ مینوئل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے اہل ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنا ضروری ہے۔

اخبار کے مطابق، کمیشن کے اندر اس اختلاف کے باعث چیف الیکشن کمشنر کو قانونی رائے لینی پڑی، جس کے بعد سندھو اور جوشی نے ایس ایس آر دوبارہ شروع کرنے کے حق میں اپنی بات  دہرائی۔

اب بھی جین زی کے اہل رائے دہندگان کے پاس حق رائے دہی نہیں

الیکشن کمیشن کا سالانہ ریویو فوٹو والی ووٹر لسٹ کو اپڈیٹ کرنے اور ووٹر ڈیٹا بیس میں موجود خامیوں، غلطیوں اور دیگر نقائص کی نشاندہی کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ نوجوان شہریوں کو صرف اس لیے پورا ایک سال انتظار نہ کرنا پڑے کہ انہوں نے1 جنوری کی کٹ آف تاریخ کے بعد 18 سال کی عمر مکمل کی ہے، تین دیگر تاریخیں بھی طے کی گئی تھیں:1 اپریل، 1 جولائی اور1 اکتوبر۔اس طرح ایس ایس آر وقت سے منسلک ایک ایسا عمل ہے جس کا مقصد تمام اہل لوگوں کو جلد از جلد ووٹ دینے کا حق دلانا ہے۔

تاہم، 2026-27 کے سالانہ سائیکل کے لیے یہ ٹائم لائن پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔ ایس ایس آر کے عمل کا اعلان عام طور پر مئی کے آخر میں کیا جاتا ہے، جس کے بعد ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران تیاری شروع کرتے ہیں۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے سے پہلے دو سے تین ماہ تک نظرثانی سے قبل کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، جس سے دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے لیے وقت مل  جاتا ہے۔

تاہم، اعلان میں ہی تاخیر ہونے کی وجہ سے بعد کے مراحل میں بھی خاصی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا فائنل ووٹر لسٹ روایتی طور پر جنوری میں جاری کیے جانے کے معمول کو برقرار رکھ پائے گی۔ یہ بات ان ریاستوں کے لیے اور اہم ہے جہاں اگلے سال انتخابات ہونے ہیں۔

اتراکھنڈ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں، جہاں ابھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے،  وہاں یہ معاملہ اہم ہو گیا ہے۔ وہیں، بہار جیسی ریاستوں میں، جہاں ایس آئی آر کا کام کافی پہلے مکمل ہو چکا ہے، اب تک ووٹر لسٹ میں اگلی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ’جین زی‘ کے ہزاروں نوجوان ووٹ دینے کے حق سے محروم رہ سکتے ہیں۔

مسئلہ صرف نئے ووٹرز کے نام شامل کرنے تک محدود نہیں

اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سامنے آئے اختلافات کا اثر الیکشن کمیشن کے اندرونی انتظامی امور پر بھی پڑنے لگا ہے۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 50 افسران اور ڈپٹی الیکشن کمشنروں کی سالانہ پرفارمنس رپورٹ اس لیے اٹکی ہوئی ہیں کیونکہ کمیشن کے تینوں ارکان نے ان پر بیک وقت دستخط نہیں کیے ہیں۔

اس کے علاوہ، کئی افسران نے اپنی رپورٹس کی منظوری کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو الیکشن کمشنروں سے رابطہ کیا ہے۔ اخبار کے مطابق، ان میں سے کچھ رپورٹ میں اس وقت بھی تاخیر ہو رہی ہے جب متعلقہ افسران دوسری جگہوں پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اکنامک ٹائمز کی یہ رپورٹ لکھنے والے صحافی نے بتایا کہ انہیں ایس آئی آر کے تحت ’نام میں فرق‘ کے لیے نوٹس موصول ہوا تھا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ