فرانس اور اسپین — مغربی یورپ میں چلنے والی شدید گرمی کی نئی لہر کے درمیان فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ بے قابو ہوگئی ہے جس نے وسیع علاقے جلا دیے اور سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچایا۔ حکام نے ہزاروں مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جبکہ آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسپین میں محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کم از کم اتوار تک برقرار رہ سکتی ہے اور درجۂ حرارت بعض علاقوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، جس سے آگ لگنے کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق ملک کو اب محض انفرادی آتشزدگیوں کا سامنا نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے اور متعدد دیہی اور جنگلاتی علاقے راکھ بن چکے ہیں۔
فرانس کے جنوب مغربی علاقے ’یلو الرٹ‘ پر ہیں کیونکہ وہاں درجۂ حرارت میں اضافہ اور خشک حالات آگ کے پھیلاؤ کو تیز کر رہے ہیں۔ بورڈو کے میئرف نے کہا ہے کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہیں کیونکہ لگی آگ شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد درپیش سب سے مشکل جنگلاتی آگ قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہروں کی شدت اور بار بار آنے کی وجہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں، جن سے جنگلات خشک اور آگ کے لیے حساس بنتے ہیں۔ مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی ہدایات پر عمل کریں، خطرناک علاقوں سے دور رہیں اور اگر ضروری ہو تو فوری طور پر منتقل ہوجائیں۔

