ماسکو — روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے بدھ کو میسجنگ سروس ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزام میں بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا۔ ایف ایس بی کا کہنا ہے کہ ٹیلیگرام ایسے مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا جو مبینہ طور پر روس میں تخریب کاری، دہشت گرد حملوں، اجتماعی قتل اور سائبر فراڈ کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
ایف ایس بی نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ پوسٹس اور چینلز کو مبینہ طور پر یوکرین کی مخصوص ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں نے اندرونِ روس خراب کاری اور جرائم کی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا۔ روسی سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ اس بنیاد پر پاویل دوروف کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے، تاہم اب تک دوروف یا ٹیلیگرام کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹیلیگرام کو ۲۰۱۳ میں قائم کیا گیا تھا اور آج اس کے ایک ارب سے زائد فعال صارفین ہیں۔ روس-یوکرین جنگ کے دوران یہ پلیٹ فارم معلومات کے تبادلے میں مرکزی کردار رہا اور دونوں ممالک میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا رہا۔ روسی حکومت صدیوں سے نہیں، مگر گزشتہ برسوں میں ٹیلیگرام کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور ملکی متبادل میسجنگ سروسز کو فروغ دے رہی ہے۔
ماہرین اور مبصرین اسے ماسکو کی جانب سے ٹیلیگرام پر کنٹرول سخت کرنے کی تازہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوروف روس میں پیدا ہوئے تھے مگر بعد ازاں انہوں نے متحدہ عرب امارات اور فرانس کی شہریتیں اختیار کیں۔ ٹیلیگرام سے قبل انہوں نے روسی سوشل نیٹ ورک وی کونٹاکٹے (VKontakte) کی بنیاد رکھی تھی، مگر ۲۰۱۴ میں روسی دباؤ کے باعث کمپنی میں اپنی باقی ماندہ حصص فروخت کر دی تھیں۔
فرانسیسی حکام نے بھی ٹیلیگرام کے خلاف الگ تحقیقات چلائی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ پلیٹ فارم نے مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کیا۔ پاویل دوروف نے ماضی میں ان الزامات کی مسلسل تردید کی ہے۔ روس میں درج یہ مقدمہ دوروف کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

