مشہد، 9 جولائی 2026چھ روزہ آخری رسوم کے اختتام پر ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کے روز شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں امام رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ لاکھوں سوگوار مشہد کی سڑکوں پر جمع ہوئے، بہت سے ایرانی پرچم لہراتے رہے جبکہ کچھ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے۔
خامنہ ای فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں مارے گئے تھے۔ ان کے جسدِ خاکی کو تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا اور عراق کے شہروں نجف و کربلا بھی لے جایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
امریکی حملوں کے باعث تہران-مشہد ریل سروس متاثر رہی اور مسافروں کو بسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کی رہائش گاہ پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کی۔
دریں اثنا، امریکہ کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزی پر پاسدارانِ انقلاب نے کویت (عریفجان، علی السالم) اور بحرین (الجفیر، شیخ عیسیٰ) میں امریکی اڈوں کو میزائل و ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور مزید کارروائیوں کی دھمکی دی۔ کویتی فوج اور بحرینی وزارتِ داخلہ نے فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے اور خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی۔


