کانگو میں ایبولا وائرس بے قابو، اقوام متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
بنڈی بگيو وائرس سے پھیلنے والی یہ وبا مئی میں شمال مشرقی صوبے ایتوری سے شروع ہوئی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ اسے قابو کرنے کی کوششوں سے بھی تیز ہوگیا ہے، عالمی برادری فوری طور پر اقدامات بڑھائے۔
گوتریس کے مطابق یہ اب تک ریکارڈ کی گئی تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا ہے، تاہم اسے روکا جاسکتا ہے۔ دنیا کو فوری طور پر مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔
یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول کے مطابق 26 اگست تک کانگو میں ایبولا کے 5,713 مصدقہ کیسز اور 2,744 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، جبکہ ایک ہی روز میں 57 نئے کیسز اور 29 اموات سامنے آئیں۔
بنڈی بگيو وائرس سے پھیلنے والی یہ وبا مئی میں شمال مشرقی صوبے ایتوری سے شروع ہوئی اور کئی صوبوں اور صحت کے علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ کانگو کی تاریخ کی سب سے بڑی ایبولا وبا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے مئی میں تیزی سے پھیلاؤ اور بین الاقوامی منتقلی کے خدشے کے باعث اسے بین الاقوامی تشویش کی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔
کانگو میں سیکیورٹی کی خراب صورتحال، آبادی کی نقل مکانی، محدود طبی سہولیات اور متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث وبا پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔
وبا پڑوسی ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ گئی، جہاں 20 کیسز اور 2 اموات رپورٹ ہوئیں۔ تاہم یوگنڈا نے مسلسل 42 روز تک کوئی نیا مصدقہ کیس سامنے نہ آنے پر اپنی وبا ختم ہونے کا اعلان کردیا، جبکہ کانگو کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کانگو میں ضروری حفاظتی اقدامات جاری رکھنے کے لیے عالمی ردعمل کو تقریباً 3 کروڑ ڈالر کی فوری فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے۔

